شیعہ پی کے

زیارات

اہلِ بیت علیہم السلام، شہداء اور اولیاء کی زیارات کا مجموعہ۔ ہر زیارت کے ساتھ متن، ترجمہ اور حوالہ موجود ہے۔

اِس مجموعے کی فہرست

زیارات کے بارے میں

زیارت سلام و تحیت کا وہ کلام ہے جو رسول اللہ ﷺ، اہلِ بیت علیہم السلام اور جنابِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خدمت میں عرض کیا جاتا ہے۔ شیعہ روایات میں زیارات دو طرح کی ہیں: کچھ خاص ایام و مواقع سے وابستہ ہیں (زیارتِ عاشورہ، زیارتِ اربعین)، اور کچھ ہر وقت پڑھی جانے والی ہیں (زیارتِ امین اللہ، زیارتِ جامعہ کبیرہ)۔

زیارات کے بنیادی ماخذ شیخ مفیدؒ، سید ابن طاؤسؒ اور علامہ مجلسیؒ کی کتب ہیں، اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی زیارات شیخ عباس قمیؒ کی مفاتیح الجنان میں موجود ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

  • زیارت سے کیا مراد ہے؟
    زیارت کا لغوی مفہوم 'حاضر ہونا' ہے۔ اصطلاحاً یہ کلام و سلام کا وہ خاص متن ہے جو معصوم شخصیات کی خدمت میں عرض کیا جاتا ہے — چاہے ان کی قبور کے قریب ہو یا دور سے۔
  • زیارتِ عاشورہ سب سے اہم زیارت کیوں سمجھی جاتی ہے؟
    زیارتِ عاشورہ کی روایات حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہیں۔ یہ صرف یومِ عاشورہ ہی نہیں بلکہ ہر دن پڑھی جا سکتی ہے، اور شیعہ روایات میں اسے بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
  • کیا زیارت کسی شخصیت کی قبر کے قریب ہی پڑھی جا سکتی ہے؟
    نہیں۔ شیعہ روایات میں 'زیارت من بُعد' (دور سے زیارت) کا تصور موجود ہے اور بہت سے اعمال میں اسے مستحب قرار دیا گیا ہے۔ شرط نیت کی صداقت اور آداب کی پاسداری ہے۔

متعلقہ مجموعے

زیارات — Shia.pk