
آبنائے ہرمز سے ہفتے کے آخر میں بحری آمدورفت 12 جہازوں تک گر گئی
روئٹرز کے جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے آخر میں آبنائے ہرمز سے 12 تجارتی جہاز گزرے، جو پچھلے ہفتے کے آخر کے 35 جہازوں سے کم ہیں۔ ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ جون میں طے شدہ عبوری امن مفاہمت نامے کے تحت اپنے وعدے پورے نہیں کرتا۔
شائع شدہ: 21 ستمبر، 2026
محفوظ کریںآبنائے ہرمز سے ہفتے کے آخر میں بحری آمدورفت 12 جہازوں تک گر گئی
گزشتہ ہفتے کے آخر میں آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں نمایاں کمی واقع ہوئی، اور روئٹرز کے حوالے سے جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ اور اتوار کے روز 12 تجارتی جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرے۔ یہ تعداد پچھلے ہفتے کے آخر میں گزرنے والے 35 جہازوں کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی کم ہے۔
آمدورفت میں اس کمی کا تعلق ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف کے اس بیان سے ہے جس میں انہوں نے اتوار کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ جون میں طے شدہ عبوری امن مفاہمت نامے کے تحت اپنے وعدے پورے نہیں کرتا۔ قالیباف کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندش بدستور جاری ہے اور اس کا انحصار معاہدے کی شرائط کے نفاذ پر ہے جسے تہران بیان کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی اور اجناس کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس آبنائے سے نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جاتی ہے کیونکہ اس گزرگاہ پر تجارت کا بڑا حجم منحصر ہے۔
قالیباف نے جس جون کے عبوری امن مفاہمت نامے کا ذکر کیا وہ فریقین کے درمیان ایک مفاہمت قرار دیا گیا تھا، تاہم اس مضمون میں اس کی مخصوص شقیں یا وہ وعدے تفصیل سے بیان نہیں کیے گئے جنہیں ایران کے مطابق پورا نہیں کیا گیا۔ ہفتے کے آخر کی جہاز رانی کے اعداد و شمار آبنائے سے آمدورفت کے بارے میں تازہ ترین دستیاب معلومات ہیں۔
مہر نیوز کے مطابق، جس نے روئٹرز کی رپورٹ اور جہاز رانی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا، گزرگاہ میں کمی ایرانی حکام کے اعلان کردہ مسلسل بندش کے بعد سامنے آئی۔ رپورٹ میں یہ اشارہ نہیں دیا گیا کہ آمدورفت کب سابقہ سطح پر واپس آ سکتی ہے یا آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے کون سے اقدامات درکار ہوں گے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں