
روس میں پارلیمانی انتخابات میں حکمران جماعت 57.83 فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیاب، ٹرن آؤٹ 59 فیصد
روس کے مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق اسٹیٹ ڈوما انتخابات میں ٹرن آؤٹ 59 فیصد رہا، جبکہ 95 فیصد سے زائد پولنگ ایجنٹوں کی گنتی کے بعد متحدہ روس پارٹی کو 57.83 فیصد ووٹ ملے۔
شائع شدہ: 21 ستمبر، 2026
محفوظ کریںروس میں پارلیمانی انتخابات میں حکمران جماعت 57.83 فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیاب، ٹرن آؤٹ 59 فیصد
روس کے مرکزی الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ اسٹیٹ ڈوما انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 59 فیصد رہا۔ یہ اعداد و شمار 95 فیصد سے زائد پولنگ ایجنٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد جاری کیے گئے۔ کمیشن کی سربراہ ایلا پامفیلووا کے مطابق حکمران جماعت متحدہ روس کو 57.83 فیصد ووٹ ملے، جو 2007 کے بعد اسٹیٹ ڈوما انتخابات میں اس کی سب سے زیادہ کامیابی ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف دی رشین فیڈریشن (سی پی آر ایف) 13.81 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی آف رشیا (ایل ڈی پی آر) نے 8.98 فیصد، اور نیو پیپل پارٹی نے 7.96 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ فیئر رشیا 4.96 فیصد ووٹوں کے ساتھ پانچ فیصد کی حد عبور نہیں کر سکی۔ دیگر جماعتوں میں رشین پارٹی آف پنشنرز فار سوشل جسٹس کو 2.0 فیصد، گرینز کو 1.15 فیصد، کمیونسٹس آف رشیا کو 0.85 فیصد، روڈینا کو 0.72 فیصد اور پارٹی آف ڈائریکٹ ڈیموکریسی کو 0.35 فیصد ووٹ ملے۔
پامفیلووا کے یہ بیان انٹرفیکس نے نقل کیے۔ یہ نتائج گنتی کے دوران جاری کیے گئے۔ اس سے قبل کارکنوں اور مبصرین نے روس کے جنوبی علاقوں میں ووٹنگ کے دوران متعدد خلاف ورزیوں کی اطلاع دی تھی۔ یہ انتخابات یوکرین جنگ کے پس منظر میں منعقد ہوئے، جس کا ذکر ناشر کے موضوعاتی کلیدی الفاظ میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور اسٹیٹ ڈوما کے ساتھ کیا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور باقی پولنگ ایجنٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر ان میں تبدیلی ممکن ہے۔ مہر نیوز کے مطابق مرکزی الیکشن کمیشن نے ٹرن آؤٹ اور جماعتوں کے نتائج 95 فیصد سے زائد پولنگ ایجنٹوں کی گنتی کی بنیاد پر جاری کیے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں