
اربعین کے زائرین شہید رہبر کے انتقام کے لیے سرخ جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں
اربعین سے تین دن پہلے، نجف سے کربلا کی طرف پیدل جانے والے زائرین سرخ جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں جو شہید رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے انتقام کی علامت ہیں۔
شائع شدہ: 1 اگست، 2026
محفوظ کریںاربعین کے زائرین شہید رہبر کے انتقام کے لیے سرخ جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں
اربعین کے موقع پر، امام حسین (ع) کی شہادت کے چالیسویں دن، لاکھوں زائرین مقدس شہر کربلا کی طرف جا رہے ہیں۔ اس سال یہ زیارت خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ زائرین شہید رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، اربعین کی برسی سے تین دن پہلے، نجف سے کربلا کی طرف جانے والے زائرین سرخ جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ جھنڈے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے انتقام کی علامت ہیں، جو ایک حالیہ واقعے میں شہید ہوئے تھے۔ سرخ جھنڈے شیعہ ثقافت میں سوگ اور انصاف کے مطالبے کی روایتی علامت ہیں۔
رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی ہے کہ زائرین دو مقدس شہروں کے درمیان تاریخی راستے پر پیدل چل رہے ہیں، جو اربعین کی زیارت کی رسومات کا حصہ ہے۔ زائرین کے درمیان سرخ جھنڈوں کی موجودگی اس سال اربعین سے وابستہ گہرے جذباتی اور مذہبی احساسات کو اجاگر کرتی ہے۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر اور ایک ممتاز شیعہ مذہبی مرجع تھے۔ ان کی شہادت نے پوری مسلم دنیا میں غم اور مذمت کی لہر دوڑا دی ہے۔ اربعین کی زیارت، جو امام حسین (ع) کی شہادت کی یاد مناتی ہے، سیاسی اور مذہبی پیغامات کے اظہار کا ایک پلیٹ فارم بن گئی ہے۔
مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ زائرین سرخ جھنڈے شہید رہبر کے لیے انصاف کے عزم کی علامت کے طور پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ زائرین کے درمیان ماحول غم اور عزم کا ہے، کیونکہ وہ امام حسین (ع) اور آیت اللہ خامنہ ای دونوں کو یاد کر رہے ہیں۔
اربعین کی زیارت دنیا کی سب سے بڑی مذہبی اجتماعات میں سے ایک ہے، جس میں مختلف ممالک سے لاکھوں شرکاء شامل ہوتے ہیں۔ اس سال کا یہ موقع خاص طور پر حالیہ ایرانی رہبر کی شہادت کی وجہ سے زیادہ پر اثر ہے، جس نے روایتی سوگ کی رسومات میں ایک نیا جہت شامل کر دی ہے۔
تصاویر
13 تصاویرماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں












