
پاکستان کے اسحاق ڈار اور ایران کے عراقچی نے مکہ معاہدے پر تبادلہ خیال کیا
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے مکہ معاہدے کے بارے میں گفتگو کی۔
شائع شدہ: 10 اگست، 2026
محفوظ کریںپاکستان کے اسحاق ڈار اور ایران کے عراقچی نے مکہ معاہدے پر تبادلہ خیال کیا
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں دونوں نے مکہ معاہدے پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ اطلاع مہر نیوز ایجنسی نے دی، جس نے نوٹ کیا کہ اس خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔
مکہ معاہدہ، جسے مکہ اعلامیہ بھی کہا جاتا ہے، 2019 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا ایک معاہدہ ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانا اور کشیدگی کم کرنا ہے۔ یہ معاہدہ سعودی عرب کی ثالثی میں ہوا تھا اور علاقائی سفارت کاری میں اس پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔
ڈار اور عراقچی کے درمیان یہ گفتگو علاقائی سفارتی کوششوں کے تناظر میں ہوئی ہے، جہاں پاکستان اور ایران دونوں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی گفتگو کی تفصیلات فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئیں، لیکن مکہ معاہدے پر توجہ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور علاقائی مسائل حل کرنے میں مسلسل دلچسپی کا اشارہ دیتی ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، اس کال کی رپورٹ مختصر تھی اور اس میں بتایا گیا کہ مزید معلومات اپ ڈیٹس کے ساتھ فراہم کی جائیں گی۔ ایجنسی نے گفتگو کے مواد یا نتائج کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں