
پاکستان کا کہنا ہے کہ دفاعی معاہدے کے تحت اس کی فوجی صلاحیت سعودی عرب کے لیے دستیاب ہے
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی فوجی صلاحیت ریاض کے لیے دستیاب ہوگی۔ انہوں نے یمن کے خلاف فضائی حملوں میں پاکستان کی شرکت کے بارے میں تفصیل دینے سے انکار کیا۔
شائع شدہ: 30 ستمبر، 2026
محفوظ کریںپاکستان کا کہنا ہے کہ دفاعی معاہدے کے تحت اس کی فوجی صلاحیت سعودی عرب کے لیے دستیاب ہے
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے روم کے دورے کے دوران کہا کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دستخط شدہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی فوجی صلاحیت ریاض کے لیے دستیاب ہوگی۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ اس انتظام کا مطلب ہے کہ پاکستان کے پاس دستیاب ہر ذریعہ سعودی عرب کے لیے بھی دستیاب ہے۔
یمن کے خلاف فضائی حملوں میں پاکستان کی ممکنہ شرکت کے بارے میں پوچھے جانے پر آصف نے کہا کہ وہ تفصیلات میں نہیں جائیں گے، لیکن انہوں نے دہرایا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی ڈھانچے کا پابند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن کی انصاراللہ افواج نے سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں اور بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ اپنے زیر کنٹرول علاقے کو بڑھا دیا ہے۔
دریں اثنا، یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اعلان کیا کہ تنازعے کے بڑھنے کے بعد سے سعودی جارحانہ حملوں کی کل تعداد، بشمول فضائی اور میزائل حملے، 1,158 تک پہنچ گئی ہے۔ سریع کے مطابق، سعودی عرب نے ان حملوں میں بنیادی طور پر یمن کے رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ بیانات علاقائی کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کو اجاگر کرتے ہیں۔ روم میں پاکستانی وزیر دفاع کے ریمارکس سہ فریقی دفاعی معاہدے کے تحت وعدوں کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم آپریشنل شمولیت سے متعلق تفصیلات واضح نہیں ہیں۔
مہر نیوز کے مطابق، اس رپورٹ میں انادولو ایجنسی کا حوالہ دیا گیا اور یمنی فوجی ترجمان کے سعودی حملوں کے اعداد و شمار شامل کیے گئے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں