
ایران کے آئی آر جی سی نے ٹرمپ کے رابطے کے دعوؤں کو مسترد کر دیا
آئی آر جی سی نے ٹرمپ کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے کہ ایرانی حکام نے بمباری روکنے کے لیے رابطہ کیا، اور اسے تنازع سے بھاگنے کا بہانہ قرار دیا۔
شائع شدہ: 11 جون، 2026
محفوظ کریںایران کے آئی آر جی سی نے ٹرمپ کے رابطے کے دعوؤں کو مسترد کر دیا
اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ ایرانی حکام نے ان سے بمباری روکنے کی درخواست کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا۔ آئی آر جی سی کے پبلک ریلیشنز آفس کے جاری کردہ ایک بیان میں ان الزامات کو تنازع سے بھاگنے کا بہانہ قرار دیا گیا۔ بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ٹرمپ نے حالیہ ریمارکس میں دعویٰ کیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں نے ان سے بمباری روکنے کی درخواست کی، لیکن ان دعوؤں کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ آئی آر جی سی کا ردعمل قطعی اور غیر مبہم تھا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس طرح کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
یہ تردید ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہے، جہاں آئی آر جی سی ایران کے دفاع اور خارجہ پالیسی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ آئی آر جی سی ایران میں ایک بڑی فوجی، سیاسی اور اقتصادی قوت ہے، اور اس کے بیانات اہم وزن رکھتے ہیں۔
مہر نیوز ایجنسی (MNA) کے مطابق، آئی آر جی سی کا ردعمل فوری اور حتمی تھا، جس میں کسی ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔ MNA کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آئی آر جی سی کے بیان میں ٹرمپ کے دعوؤں کی وجوہات پر روشنی نہیں ڈالی گئی لیکن ان کی سختی سے تردید کی گئی۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں