
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ایران اور قطر کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں ملاقات
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں قطر کے اپنے ہم منصب سے ملاقات کی۔
شائع شدہ: 22 ستمبر، 2026
محفوظ کریںاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ایران اور قطر کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں ملاقات
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں قطر کے اپنے ہم منصب سے ملاقات کی۔ یہ اطلاع مہر نیوز کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔
یہ ملاقات اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں عالمی رہنماؤں اور سفارت کاروں کے سالانہ اجتماع کے دوران ہوئی، جہاں وزرائے خارجہ معمول کے مطابق علاقائی اور بین الاقوامی امور پر دو طرفہ بات چیت کرتے ہیں۔ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں رکن ممالک کے نمائندے عالمی سیاسی، سلامتی اور اقتصادی معاملات پر مشتمل وسیع ایجنڈے کے لیے جمع ہوئے۔
رپورٹ میں ایران اور قطر کے درمیان ہونے والی بات چیت کے موضوعات کی تفصیل نہیں دی گئی، اور نہ ہی اس ملاقات کے نتیجے میں کسی معاہدے یا مشترکہ بیان کا ذکر کیا گیا۔ دونوں حکام جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود تھے، جو اعلیٰ سطحی سفارت کاری اور وفود کے درمیان ضمنی ملاقاتوں کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
ایران اور قطر کے درمیان قریبی سفارتی اور اقتصادی تعلقات ہیں، جن میں علاقائی امور پر تعاون بھی شامل ہے۔ دونوں ممالک نے وزیر خارجہ کی سطح پر باقاعدہ رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں اور ان کے حکام نے حالیہ برسوں میں مختلف مواقع پر ملاقاتیں کی ہیں۔ قطر اکثر علاقائی ثالثی کی کوششوں میں شامل رہا ہے، جبکہ ایران نے خلیجی ریاستوں کے ساتھ متعدد امور پر بات چیت کی ہے۔
عراقچی اور ان کے قطری ہم منصب کے درمیان یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی دو طرفہ مصروفیات کے سلسلے کا حصہ ہے، جہاں وزرائے خارجہ اس موقع کو اپنے ممالک کے موقف کو آگے بڑھانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کی ضمنی ملاقاتیں سالانہ اجلاس کے دوران عام ہیں اور عموماً دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور علاقائی پیش رفت پر ہم آہنگی پر مرکوز ہوتی ہیں۔
مہر نیوز کے مطابق، یہ ملاقات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ رپورٹ میں بات چیت کے مواد یا کسی نتائج کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں