
ایران اور عمان کی آبنائے ہرمز پر مذاکرات حتمی مراحل میں
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں اور مشاورت جاری ہے۔
شائع شدہ: 2 اگست، 2026
محفوظ کریںایران اور عمان کی آبنائے ہرمز پر مذاکرات حتمی مراحل میں
آج کے کابینہ اجلاس کے آغاز پر ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اسلامی جمہوریہ ایران اور سلطنت عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق انتظامات پر ہونے والی بات چیت کی تازہ ترین پیش رفت پر رپورٹ پیش کی۔ بات چیت میں ہونے والی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات حتمی شکل اختیار کرنے کے راستے پر ہیں اور اپنے آخری مراحل سے گزر رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مشاورت اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے متعلق امور پر بات چیت کے فریم ورک میں جاری ہے اور یہ عمل اپنے آخری مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مہر نیوز ایجنسی (MNA) کے مطابق، یہ رپورٹ کابینہ کے اجلاس کے دوران پیش کی گئی، جس میں تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری سفارتی کوششوں پر روشنی ڈالی گئی، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ یہ مذاکرات وسیع تر علاقائی تعاون کا حصہ ہیں، اور دونوں ممالک اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان انتظامات کے حتمی ہونے سے بحری ٹریفک اور علاقائی جغرافیائی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں انتظامات کی نوعیت یا مذاکرات کے اختتام کے لیے کوئی مخصوص تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، لیکن وزیر خارجہ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حتمی معاہدہ قریب ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایک اہم گزرگاہ ہے جس سے دنیا کی تقریباً پانچویں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس کی سلامتی سے متعلق کوئی بھی معاہدہ عالمی اہمیت کا حامل ہے۔ ایران اور عمان نے تاریخی طور پر دوستانہ تعلقات برقرار رکھے ہیں، اور بحری امور پر ان کا تعاون علاقائی استحکام کی جانب ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جاری مشاورت اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو اس طریقے سے منظم کرنے میں باہمی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے جو تمام ساحلی ریاستوں کی خودمختاری اور مفادات کا احترام کرے۔ جیسے جیسے مذاکرات حتمی مراحل میں پہنچ رہے ہیں، مبصرین اس کے نتائج پر نظر رکھیں گے، جو دیگر بحری اور سلامتی امور پر علاقائی تعاون کے لیے ایک مثال قائم کر سکتے ہیں۔ مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ وزیر خارجہ کا بیان ایران کے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مشترکہ خدشات کو دور کرنے کے لیے تعمیری بات چیت کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں