
ایران کی وزارت خارجہ نے یمن کے اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی مذمت کی
ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز یمن میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری اہداف پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، اور یمن کے معاملے کو حل کرنے میں تعاون کی ایران کی تیاری کا اعادہ کیا۔
شائع شدہ: 28 ستمبر، 2026
محفوظ کریںایران کی وزارت خارجہ نے یمن کے اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی مذمت کی
ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے یمن میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری اہداف پر حملوں کی شدید مذمت کی۔ وزارت نے کہا کہ یمن کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مسلسل خلاف ورزی، ملک کے شہروں اور دیہاتوں پر جارحیت کے واقعات، اور جاری معاشی ناکہ بندی اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں، بالخصوص دفعہ 2 کے پیراگراف 4، کی خلاف ورزی ہے اور اسلامی اصولوں و تعلیمات کے منافی ہے۔
بیان میں یمنی شہروں اور دیہاتوں پر اس سے قبل ہونے والے حملوں کا حوالہ دیا گیا، جنہیں صیہونی حکومت اور امریکہ سے منسوب کیا گیا۔ اس میں معاشی ناکہ بندی کو بھی ملک کی مجموعی صورتحال کا حصہ قرار دیا گیا۔
یمن کی صورتحال کے بارے میں اپنے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے، اسلامی جمہوریہ ایران نے طے شدہ روڈ میپ کی بنیاد پر مسائل کے حل کے لیے ہر قسم کی نیک خدمات انجام دینے کی تیاری پر زور دیا۔
بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سے حملے یا بنیادی ڈھانچہ نشانہ بنایا گیا، اور نہ ہی مجوزہ روڈ میپ کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔ اس میں سفارتی کوششوں کے لیے کوئی مخصوص وقت کا تعین بھی نہیں کیا گیا۔
مہر نیوز کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے پیر کے بیان میں حملوں کی مذمت کی گئی اور یمن کی صورتحال کے حل میں ایران کے موقف اور تعاون کی آمادگی کا اعادہ کیا گیا۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں