
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا
ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان کیا، جس میں امریکہ کی جنگ کے بعد کی مفاہمت نامے کی خلاف ورزیوں اور اسرائیل کی جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا گیا۔
شائع شدہ: 20 جون، 2026
محفوظ کریںایران نے امریکہ اور اسرائیل کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا
ہفتہ کو ایک رسمی بیان میں، خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ایران کے مطابق "امریکہ کی طرف سے جنگ کے بعد کی مفاہمت نامے کی پہلی شق کی واضح خلاف ورزی" اور "صیہونی حکومت کی جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل اور جاری خلاف ورزیوں" کے جواب میں کیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز ایک اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ہے جس سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل گزرتا ہے۔ یہ بندش علاقائی کشیدگی میں ایک اہم اضافے کی علامت ہے۔ بیان میں بندش کی مدت یا دائرہ کار کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
مہر نیوز کے مطابق، یہ اعلان بغیر کسی پیشگی وارننگ کے کیا گیا۔ خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر ایک اہم ایرانی فوجی کمانڈ ہے جو اسٹریٹجک آپریشنز کے لیے ذمہ دار ہے۔ اس اقدام سے بین الاقوامی ردعمل متوقع ہے، خاص طور پر تیل درآمد کرنے والے ممالک اور عالمی طاقتوں کی طرف سے۔
ایران کی طرف سے جس جنگ کے بعد کی مفاہمت نامے کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کا تعلق ایران عراق جنگ کے بعد کے معاہدوں سے سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔ دریں اثنا، جنوبی لبنان میں جنگ بندی، جو نازک ہے، میں اسرائیل اور حزب اللہ دونوں کی طرف سے بار بار خلاف ورزیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
اس پیش رفت سے عالمی تیل کی منڈیوں اور سمندری سلامتی پر فوری اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ شپنگ کمپنیاں اور تیل کے تاجر ممکنہ طور پر راستوں اور قیمتوں میں تبدیلی کریں گے۔ ایرانی بیان میں آبنائے کو دوبارہ کھولنے کی شرائط کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں