
شمالی عراق میں علیحدگی پسندوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے
سلیمانیہ اور اربیل صوبوں میں علیحدگی پسند گروہوں کے ٹھکانوں پر متعدد ڈرون حملے ہوئے، فضائی دفاعی نظام فعال کیا گیا۔
شائع شدہ: 2 اگست، 2026
محفوظ کریںشمالی عراق میں علیحدگی پسندوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے
مقامی میڈیا کے مطابق سلیمانیہ صوبے میں علیحدگی پسند گروہوں کے اڈوں پر متعدد خودکش ڈرون حملے کیے گئے۔ دھماکوں کی آوازیں صوبے کے بڑے حصوں میں سنی گئیں۔ اسی دوران اربیل سے بھی اطلاعات موصول ہوئیں کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں زوردار دھماکے ہوئے۔ بعض خبر رساں اداروں نے بتایا کہ یہ دھماکے اربیل کے مضافات میں علیحدگی پسند جماعتوں اور گروہوں کی پناہ گاہوں اور ٹھکانوں پر کیے گئے ٹارگٹڈ ڈرون حملوں کا نتیجہ تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فضائی دفاعی نظام کو فعال کیا گیا اور آنے والی آگ کو روکنے کی کوشش کی گئی۔
مہر نیوز ایجنسی (MNA) کے مطابق یہ حملے عراقی کردستان کے علاقے میں سلیمانیہ اور اربیل صوبوں میں ہوئے۔ رپورٹس میں حملوں کی صحیح جگہوں یا نشانہ بنائے گئے گروہوں کی وضاحت نہیں کی گئی، لیکن انہیں علیحدگی پسند جماعتیں اور گروہ قرار دیا گیا۔ فضائی دفاعی نظام کا فعال ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملوں کی توقع تھی یا کوئی جاری خطرہ تھا۔
ڈرون حملے اس علاقے میں ہونے والے اسی طرح کے واقعات کا حصہ ہیں، جہاں ترکی اور ایران کی افواج نے شمالی عراق میں کرد علیحدگی پسند گروہوں جیسے PKK اور PJAK کے ٹھکانوں کو اکثر نشانہ بنایا ہے۔ تاہم، موجودہ رپورٹ میں حملوں کا ذمہ دار کسی خاص ملک یا فریق کو نہیں ٹھہرایا گیا۔
دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان کی آوازیں صوبوں کے بڑے حصوں میں سنی گئیں، جو حملوں کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ اربیل میں فضائی دفاعی نظام کا فعال ہونا بتاتا ہے کہ حکام ڈرونز کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا کوئی کامیاب انٹرسیپشن ہوئی۔
ابتدائی میڈیا رپورٹس میں کسی فوری جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔ صورتحال ابھی غیر یقینی ہے، اور تحقیقات جاری رہنے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں۔
مہر نیوز ایجنسی (MNA) کے مطابق ڈرون حملوں کی رپورٹس مقامی میڈیا اور عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی تھیں۔ ایجنسی نے مزید کوئی تبصرہ یا تجزیہ فراہم نہیں کیا، لیکن یہ واقعہ عراقی کردستان کے علاقے میں جاری سیکیورٹی چیلنجوں کو نمایاں کرتا ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں