
انصاراللہ کے عہدیدار نے یمن سعودی تنازعے کے خاتمے کے لیے تین شرائط مقرر کر دیں
انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حسین العزی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو یمن پر حملے روکنا، محاصرہ ختم کرنا اور ملک کے مطالبات پورے کرنا ہوں گے تاکہ جنگ ختم ہو سکے۔
شائع شدہ: 30 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںانصاراللہ کے عہدیدار نے یمن سعودی تنازعے کے خاتمے کے لیے تین شرائط مقرر کر دیں
یمنی انصاراللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن حسین العزی نے ایک سوشل نیٹ ورک پر پیغام میں کہا ہے کہ سعودی عرب تین اقدامات پر عمل درآمد کے ذریعے یمن کے ساتھ تنازعے کے حل اور جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ پیغام کے مطابق بحران کے حل اور امن کی طرف پیش رفت کی تین اہم شرائط یمن پر حملے روکنا، محاصرہ ختم کرنا اور ملک کے مطالبات پورے کرنا ہیں۔
سعودی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے العزی نے کہا کہ یمن کے ساتھ تنازعات مشرقی یا مغربی فوجی اتحادوں پر انحصار کے بغیر اور گھروں، بازاروں اور عام شہریوں پر حملے جاری رکھے بغیر حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے جنگ کے بھاری اخراجات اور مسلح گروہوں کی حمایت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ فوجی راستہ جاری رکھنا نہ صرف بحران کا حل نہیں بلکہ ناکامیوں، خدشات اور علاقائی خطرات میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر العزی نے واضح لہجے میں کہا کہ صنعا کی جانب سے اعلان کردہ شرائط پر عمل درآمد تنازعے کے خاتمے کا تجویز کردہ راستہ ہے، ورنہ تصادم جاری رہے گا۔ بیان میں کوئی ٹائم لائن یا شرائط کی تصدیق کے طریقہ کار کا ذکر نہیں کیا گیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی جنگ سے منسلک علاقائی کشیدگی جاری ہے، جسے ناشر نے رپورٹ سے منسلک موضوعات میں شامل کیا ہے۔ تین شرائط پر سعودی عہدیداروں کے فوری ردعمل کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
مہر نیوز کے مطابق انصاراللہ کے عہدیدار کے پیغام میں تین شرائط یعنی یمن پر حملے روکنا، محاصرہ ختم کرنا اور ملک کے مطالبات پورے کرنا بیان کیے گئے اور خبردار کیا گیا کہ فوجی راستہ بحران کا حل نہیں ہوگا۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں