
ایرانی اہلکار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو نئے میزائلوں سے واضح انتباہ مل گیا
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا کہ واشنگٹن کو ایران کے نئے میزائلوں سے واضح انتباہ مل گیا ہے، اور اقتصادی جنگ کا جواب خلیج فارس میں بحری نو گو زون سے دیا جائے گا۔
شائع شدہ: 8 ستمبر، 2026
محفوظ کریںایرانی اہلکار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو نئے میزائلوں سے واضح انتباہ مل گیا
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کو ایران کے نئے میزائلوں سے واضح انتباہ مل گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں رضائی نے کہا، "حالیہ دنوں میں واشنگٹن کو ایران کے نئے میزائلوں سے واضح انتباہ مل گیا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی جنگ کا جواب پورے خلیج فارس میں بحری نو گو زون قائم کرکے دیا جائے گا، جو ناکہ بندی کے کنارے تک پھیلا ہوگا۔ رضائی نے یہ بھی کہا کہ امریکی بحری جہازوں اور فوجی اڈوں کے بارے میں ایران کی آپریشنل پوزیشن کا بنیادی طور پر از سر نو جائزہ لیا گیا ہے۔
یہ بیان ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے، جہاں جوہری مسائل اور اقتصادی پابندیوں پر تنازعات جاری ہیں۔ یہ ریمارکس خطے میں ایران کے زیادہ مضبوط موقف کی نشاندہی کرتے ہیں، جو ممکنہ طور پر صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔
مہر نیوز ایجنسی (MNA) کے مطابق، رضائی کے تبصرے ایران کی امریکی اقتصادی یا فوجی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی تیاری کو اجاگر کرتے ہیں۔ بحری نو گو زون کا ذکر خلیج فارس میں امریکی بحری نقل و حرکت کو محدود کرنے کی ممکنہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔
امریکی اثاثوں کے بارے میں ایران کی آپریشنل پوزیشن کا از سر نو جائزہ فوجی منصوبہ بندی میں تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے، ممکنہ طور پر حالیہ امریکی کارروائیوں یا دھمکیوں کے جواب میں۔ تاہم، ان نئے میزائلوں کی نوعیت یا دیے گئے انتباہات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان تبادلوں کے سلسلے کا حصہ ہے، جو باہمی انتباہات اور طاقت کے مظاہروں سے نشان زد ہے۔ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ کوئی بھی غلط اندازہ وسیع تر تنازع کا باعث بن سکتا ہے۔
آخر میں، رضائی کے بیانات ایران کے اپنے مفادات کے دفاع اور امریکی دباؤ کا جواب دینے کے عزم کو واضح کرتے ہیں۔ ان انتباہات کے مکمل اثرات ابھی دیکھنے باقی ہیں، لیکن وہ خطے میں موجودہ غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کرتے ہیں۔ مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ ریمارکس جاری کشیدگی کے تناظر میں کیے گئے اور ایران کے اسٹریٹجک حساب کتاب کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں