
سعودی عرب نے متعدد صوبوں میں وارننگ سائرن فعال کر دیے
سعودی حکام نے منگل کی صبح ینبع، طائف، جدہ، ابھا، جازان اور العلا میں خطرے کے الرٹ جاری کیے، جبکہ یمنی میزائل حملوں کی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یمنی سرکاری ذرائع ابلاغ نے ابھی تک ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی۔
شائع شدہ: 15 ستمبر، 2026
محفوظ کریںسعودی عرب نے متعدد صوبوں میں وارننگ سائرن فعال کر دیے
سعودی عرب نے منگل کی صبح متعدد صوبوں میں خطرے کے الرٹ فعال کر دیے۔ سعودی ریسکیو اینڈ ریلیف اتھارٹی کے مطابق ینبع اور طائف صوبوں میں وارننگ سائرن بجائے گئے، جبکہ الگ الگ بیانات میں جدہ صوبے، ابھا شہر، جازان علاقے اور العلا صوبے میں بھی خطرے کے الرٹ جاری کیے گئے۔
ان الرٹس کے بعد یمنی مسلح افواج کی جانب سے سعودی عرب کے ان علاقوں پر میزائل حملوں کی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئیں۔ بعض غیر سرکاری ذرائع نے ایسے حملوں کے دعوے گردش میں ڈالے، تاہم یمنی سرکاری ذرائع ابلاغ نے ابھی تک ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی۔ سعودی جانب سے بھی کسی میزائل کے اثر یا نقصان کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی اور نہ ہی جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری کیے گئے۔
متاثرہ مقامات مغربی اور جنوب مغربی سعودی عرب میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ینبع اور جدہ بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ہیں، طائف مکہ ریجن میں ہے، ابھا اور جازان جنوب مغرب میں یمن کی سرحد کے قریب ہیں، جبکہ العلا شمال مغرب میں ہے۔ ایک ہی صبح میں متعدد صوبوں پر محیط الرٹ کے دائرے کا وسیع ہونا قابل توجہ ہے۔
سعودی عرب اس سے قبل بھی یمن کے ساتھ کشیدگی کے ادوار میں سرحدی اور ساحلی علاقوں میں وارننگ سسٹم فعال کر چکا ہے۔ ریسکیو اینڈ ریلیف اتھارٹی وہ ادارہ ہے جو مملکت میں عوامی خطرے کے الرٹ جاری کرتا ہے۔ اس نے اپنے بیانات میں الرٹ کی وجہ نہیں بتائی۔
یمن کی مسلح افواج، جنہیں ماخذ میں انصاراللہ کہا گیا ہے، نے سرکاری ذرائع سے ذمہ داری کا کوئی دعویٰ جاری نہیں کیا۔ یمنی سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے تصدیق نہ ہونے کا مطلب ہے کہ مبینہ حملے غیر مصدقہ ہیں۔ سعودی حکام نے بھی سائرن بجنے کی وجہ بننے والے خطرے کی نوعیت بیان نہیں کی۔
مہر نیوز کے مطابق ینبع اور طائف میں الرٹ فعال کیے گئے، جبکہ جدہ، ابھا، جازان اور العلا کے لیے الگ اعلانات جاری ہوئے، اور رپورٹنگ کے وقت ان علاقوں پر یمنی میزائل حملوں کی اطلاعات یمنی سرکاری ذرائع ابلاغ سے غیر مصدقہ تھیں۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں