
یمنی افواج نے تعز میں سعودی حمایت یافتہ جنگجوؤں پر میزائل حملے کی ویڈیو جاری کی
یمنی انصار اللہ کی قیادت والی افواج نے اتوار کو تعز میں سعودی حمایت یافتہ کرائے کے فوجیوں کے اجتماع پر بیلسٹک میزائل حملے کی ویڈیو جاری کی۔
شائع شدہ: 6 ستمبر، 2026
محفوظ کریںیمنی افواج نے تعز میں سعودی حمایت یافتہ جنگجوؤں پر میزائل حملے کی ویڈیو جاری کی
یمنی انصار اللہ کی قیادت والی حکومت کی افواج نے اتوار کو تعز میں سعودی حمایت یافتہ کرائے کے فوجیوں کے اجتماع پر بیلسٹک میزائل سے حملے کی ویڈیو جاری کی ہے۔
افواج کی طرف سے شائع کی گئی ویڈیو میں تعز صوبے میں اس اجتماع پر میزائل حملے کا لمحہ دکھایا گیا ہے۔ یہ حملہ انصار اللہ تحریک (جسے حوثی بھی کہا جاتا ہے) اور جلاوطن حکومت کے وفادار سعودی حمایت یافتہ افواج کے درمیان جاری تنازع کا حصہ ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ ویڈیو 6 ستمبر 2021 کو جاری کی گئی تھی اور اس میں اسی دن ہونے والا حملہ دکھایا گیا ہے۔ یہ فوٹیج یمنی افواج کی طرف سے فراہم کی گئی ہے، جو سعودی قیادت والے اتحاد اور اس کے مقامی اتحادیوں کے خلاف طویل جنگ میں مصروف ہیں۔
یمن میں تنازع 2014 سے جاری ہے، جب حوثی تحریک نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا۔ 2015 میں، سعودی قیادت والے اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کی، جس سے ایک تباہ کن جنگ شروع ہوئی جس نے انسانی بحران پیدا کیا۔ انصار اللہ کی قیادت والی حکومت، جو ملک کے شمالی حصے پر کنٹرول رکھتی ہے، نے سعودی عرب اور یمن کے اندر سعودی حمایت یافتہ افواج پر بار بار بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
تعز میں یہ تازہ حملہ یمنی افواج کی جاری فوجی کارروائیوں کا حصہ ہے۔ ویڈیو کی ریلیز ان کی صلاحیتوں کے مظاہرے اور ان کے مخالفین کے لیے پیغام کے طور پر کام کرتی ہے۔ حملے کی تفصیلات، بشمول ہلاکتوں کی تعداد، رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئی۔
یمن کی جنگ کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں اور لاکھوں افراد قحط کے دہانے پر ہیں۔ جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں، اور دونوں فریقین نے دشمنی جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس ویڈیو کی ریلیز خطے میں تنازع کی مسلسل شدت کو ظاہر کرتی ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، یمنی افواج نے تعز میں سعودی حمایت یافتہ کرائے کے فوجیوں پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ویڈیو آپریشن کی دستاویز کے لیے جاری کی گئی تھی۔ ایجنسی نے حملے کے بعد کے حالات یا فریقین کے سرکاری بیانات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں