
روس کا کہنا ہے کہ اس نے میکولائیف میں یوکرینی لاجسٹکس اور توانائی کے اہداف کو نشانہ بنایا
روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کی افواج نے یوکرینی لاجسٹکس، توانائی اور ریلوے کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جن میں میکولائیف کی بندرگاہ سے منسلک سہولیات بھی شامل ہیں، اور اس مقصد کے لیے ڈرون اور درست ہتھیار استعمال کیے گئے۔
شائع شدہ: 14 ستمبر، 2026
محفوظ کریںروس کا کہنا ہے کہ اس نے میکولائیف میں یوکرینی لاجسٹکس اور توانائی کے اہداف کو نشانہ بنایا
روس کی وزارت دفاع نے اتوار کے روز کہا کہ اس کی افواج نے یوکرینی لاجسٹکس، توانائی اور ریلوے کے ڈھانچے پر حملے کیے، جن میں میکولائیف کی بندرگاہ سے منسلک سہولیات بھی شامل ہیں۔ یہ اطلاع مہر نیوز کی رپورٹ کے مطابق ہے۔ وزارت نے کہا کہ اس کارروائی میں ڈرون اور درست ہتھیار استعمال کیے گئے۔
بیان میں اہداف کو یوکرین کے لاجسٹکس، توانائی اور ریلوے نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا گیا، اور میکولائیف کی بندرگاہ کے علاقے کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ میکولائیف یوکرین کے جنوب میں دریائے جنوبی بگ پر واقع ایک شہر اور بندرگاہ ہے، جو بحیرہ اسود کے قریب ہے، اور جنگ کے آغاز سے وہاں بار بار فوجی سرگرمیاں ہوتی رہی ہیں۔
روس کے اس اعلان میں یہ تفصیلات نہیں دی گئیں کہ کتنے ہتھیار استعمال کیے گئے، حملے کے صحیح مقامات کون سے تھے، یا نقصان کی حد کیا رہی۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ جانی نقصان ہوا یا نہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں تھی، اور یوکرینی حکام کی طرف سے اس بیان میں فوری عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
روس نے بارہا کہا ہے کہ وہ یوکرین کی فوجی لاجسٹکس اور توانائی کی فراہمی سے منسلک ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے، جبکہ یوکرین اور اس کے اتحادی ایسے حملوں کو شہری ڈھانچے پر حملے قرار دیتے ہیں۔ جاری جنگ کے دوران دونوں فریقوں کے میدانی کارروائیوں کے بارے میں دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اکثر مشکل ہوتی ہے۔
یہ حملہ روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان تازہ ترین تبادلے کا حصہ ہے۔ فروری 2022 میں شروع ہونے والی جنگ میں یوکرین کے مختلف علاقوں میں ڈھانچے پر وقفے وقفے سے بڑے پیمانے پر حملے جاری رہے ہیں، اور کئی محاذوں پر زمینی لڑائی بھی جاری ہے۔
مہر نیوز کے مطابق، روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کی افواج نے یوکرینی لاجسٹکس، توانائی اور ریلوے کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جن میں میکولائیف کی بندرگاہ سے منسلک سہولیات بھی شامل ہیں، اور اس کے لیے ڈرون اور درست ہتھیار استعمال کیے گئے۔ رپورٹ میں مزید عملی تفصیلات یا آزاد تصدیق شامل نہیں تھی۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں