
فلسطین نواز کارکنوں نے ایرک شمٹ کی ٹیک سمٹ میں خلل ڈال دیا
فلسطین نواز کارکنوں نے گوگل کے سابق سی ای او ایرک شمٹ کی ٹیک سمٹ میں خلل ڈالا اور 'نسل کشی کے لیے کوئی ٹیکنالوجی نہیں' کے نعرے لگائے، ان کے فوجی مصنوعی ذہانت اور اسرائیل کے ساتھ ٹیکنالوجی معاہدوں کے خلاف احتجاج کیا۔
شائع شدہ: 5 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںفلسطین نواز کارکنوں نے ایرک شمٹ کی ٹیک سمٹ میں خلل ڈال دیا
ایک ٹیک سمٹ جس میں گوگل کے سابق سی ای او ایرک شمٹ شامل تھے، فلسطین نواز کارکنوں نے خلل ڈال دیا جنہوں نے 'نسل کشی کے لیے کوئی ٹیکنالوجی نہیں' کے نعرے لگائے اور ان کے فوجی مصنوعی ذہانت اور اسرائیل کے ساتھ ٹیکنالوجی معاہدوں کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ واقعہ ایونٹ کے دوران پیش آیا، مہر نیوز کے مطابق۔
کارکنوں نے شمٹ کو فوجی مصنوعی ذہانت اور اسرائیل کے ساتھ ٹیکنالوجی معاہدوں میں ان کی شمولیت پر نشانہ بنایا۔ یہ احتجاج فوجی کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے خلاف جاری مخالفت کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر غزہ تنازعے کے تناظر میں۔
شمٹ، جنہوں نے 2001 سے 2011 تک گوگل کے سی ای او اور بعد میں الفابیٹ کے ایگزیکٹو چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں، مختلف ٹیکنالوجی منصوبوں سے وابستہ رہے ہیں۔ مظاہرین نے خاص طور پر ان کے فوجی مصنوعی ذہانت اور اسرائیل کے ساتھ معاہدوں پر اعتراض کیا۔
یہ خلل فلسطین نواز کارکنوں کی اس وسیع تحریک کا حصہ ہے جو فوجی اور نگرانی کی سرگرمیوں میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کردار کو چیلنج کرتی ہے۔ 'نسل کشی کے لیے کوئی ٹیکنالوجی نہیں' کا نعرہ ان ٹیک کمپنیوں کے خلاف اسی طرح کے احتجاجات میں استعمال ہوتا رہا ہے جن پر فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
مہر نیوز کے مطابق، کارکنوں نے سمٹ میں خلل ڈال کر شمٹ کے فوجی مصنوعی ذہانت اور اسرائیل کے ساتھ ٹیکنالوجی معاہدوں کے خلاف اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں سمٹ کے مقام یا خلل کی مزید تفصیلات یا شمٹ یا ایونٹ کے منتظمین کی طرف سے کسی ردعمل کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں