
جلود کے اسکول سے فلسطینی طلبہ کو نکالا گیا، آباد کاروں کا حملہ
مہر نیوز کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے میں نابلس کے جنوب میں واقع جلود کے ایک ابتدائی اسکول سے فلسطینی طلبہ کو اسرائیلی آباد کار ملیشیاؤں کے حملے کے بعد نکال لیا گیا۔
شائع شدہ: 19 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںجلود کے اسکول سے فلسطینی طلبہ کو نکالا گیا، آباد کاروں کا حملہ
مہر نیوز کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے میں نابلس کے جنوب میں واقع گاؤں جلود کے ایک ابتدائی اسکول سے فلسطینی طلبہ کو اسرائیلی آباد کار ملیشیاؤں کے حملے کے بعد نکال لیا گیا۔
19 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ میں مقام کو جلود کا ایک ابتدائی اسکول بتایا گیا اور انخلا کی وجہ اسرائیلی آباد کار ملیشیاؤں کا حملہ قرار دیا گیا۔ ذریعے نے متاثرہ طلبہ کی تعداد، کسی زخمی ہونے یا واقعے میں ہونے والے نقصان کی تفصیل نہیں دی۔
یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے کی وسیع تر کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں گزشتہ برسوں میں فلسطینی برادریوں اور اسکولوں پر اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی رپورٹیں بار بار آتی رہی ہیں۔ شمالی مغربی کنارے میں نابلس اور اس کے گرد و نواح کے دیہات ایسی رپورٹوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والے علاقوں میں شامل ہیں۔
مہر نیوز نے یہ خبر فلسطین اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی کوریج کے تحت شائع کی، جس میں نابلس، مغربی کنارہ، فضائی حملے اور اسرائیلی قبضے جیسے کلیدی الفاظ شامل تھے۔ رپورٹ کے ساتھ ویڈیو مواد بھی پیش کیا گیا۔
رپورٹ میں انخلا کے بعد کی صورتحال، مقامی حکام کے ردِعمل یا اسکول کے عہدیداران کے کسی بیان کی مزید تفصیل شامل نہیں تھی۔ مہر نیوز کے مطابق، یہ انخلا نابلس کے جنوب میں جلود کے اسکول پر اسرائیلی آباد کار ملیشیاؤں کے حملے کے بعد عمل میں آیا۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں