شیعہ پی کے
یمنی مسلح افواج نے الجوف صوبے میں کارروائی کی ویڈیو جاری کر دی
عالمی شیعہ

یمنی مسلح افواج نے الجوف صوبے میں کارروائی کی ویڈیو جاری کر دی

یمن کی مسلح افواج نے منگل کے روز الجوف صوبے میں سعودی حمایت یافتہ افواج کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کی، مہر نیوز کے مطابق۔

شائع شدہ: 15 ستمبر، 2026

محفوظ کریں

یمنی مسلح افواج نے الجوف صوبے میں کارروائی کی ویڈیو جاری کر دی

یمن کی مسلح افواج نے منگل کے روز الجوف صوبے میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ افواج کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کی، مہر نیوز کی رپورٹ کے مطابق۔

رپورٹ کے مطابق، یمنی مسلح افواج نے یہ ویڈیو جاری کی جس میں سعودی حمایت یافتہ یمنی کرائے کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کا منظر دکھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کارروائی کی تاریخ، ہلاکتوں کی تعداد یا الجوف کے اندر واقعے کی صحیح جگہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

الجوف صوبہ، جو شمالی یمن میں سعودی عرب کی سرحد کے قریب واقع ہے، ملک کی طویل تنازعے کے دوران مسلسل فوجی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد یمنی حکومتی افواج کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ حوثی تحریک شمالی یمن کے بڑے حصوں بشمول دارالحکومت صنعا پر کنٹرول رکھتی ہے۔

یمنی مسلح افواج، جو عام طور پر حوثی تحریک سے وابستہ افواج کے لیے استعمال ہوتا ہے، وقتاً فوقتاً اتحادی افواج کے خلاف فوجی کارروائیوں کی ویڈیو جاری کرتی رہی ہیں۔ ایسی ویڈیوز اکثر فوجی صلاحیت ظاہر کرنے کے لیے جاری کی جاتی ہیں اور گروپ سے وابستہ میڈیا چینلز کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہیں۔

مہر نیوز نے ویڈیو جاری ہونے کی اطلاع دی لیکن کارروائی کے نتائج یا سعودی حمایت یافتہ افواج کے ردعمل کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ رپورٹ میں یمنی فوجی حکام کے بیانات یا ویڈیو کے مواد کی آزاد تصدیق بھی شامل نہیں تھی۔

یمن میں تنازعہ برسوں سے جاری ہے، جس میں مختلف دھڑے اور بیرونی فریق شامل ہیں۔ الجوف میں بار بار جھڑپیں ہوتی رہی ہیں، اور دونوں فریقوں نے مختلف اوقات میں اس علاقے میں فوجی کامیابیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ویڈیو فوٹیج جاری کرنا تنازعے کے فریقین کی اپنی سرگرمیوں کی تشہیر کے طریقوں میں سے ایک ہے۔

مہر نیوز کے مطابق، ویڈیو منگل کے روز جاری کی گئی اور اس میں الجوف صوبے میں سعودی حمایت یافتہ افواج کو نشانہ بنانے کا منظر دکھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کارروائی یا اس کے بعد کے حالات کے بارے میں اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں