شیعہ پی کے
ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ امریکی دباؤ سے مراعات حاصل نہیں ہوں گی
امریکا و ایران

ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ امریکی دباؤ سے مراعات حاصل نہیں ہوں گی

ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ دباؤ کے ذریعے ایران سے مراعات حاصل نہیں کر سکتا، اور امریکی خزانہ اور دفاع کے سیکرٹریز پر تنقید کی۔

شائع شدہ: 18 اگست، 2026

محفوظ کریں

ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ امریکی دباؤ سے مراعات حاصل نہیں ہوں گی

ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں امریکی حکام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ ایران پر دباؤ بڑھانے سے تہران کو وہ مراعات دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے جو مفاہمت کے متن میں شامل نہیں تھیں۔ انہوں نے خاص طور پر امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں اہلکار اس کام کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ ایک سخت پیغام میں قالیباف نے مزید کہا کہ امریکی حکام کو اس 'مسخرے ٹیم' سے معجزے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے یا جادوگروں کی طرح ٹوپی سے خرگوش نکال کر واشنگٹن کو اس بحران سے نہیں بچا سکتے جو ان کے خیال میں اس نے خود پیدا کیا ہے۔

یہ تبصرے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں، خاص طور پر جوہری مذاکرات اور علاقائی پالیسیوں کے حوالے سے۔ قالیباف کے تبصرے تہران کے اس موقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ بیرونی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔ 'مفاہمت' کا حوالہ ممکنہ طور پر 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے ہے، جس سے امریکہ 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت الگ ہو گیا تھا۔ اس کے بعد سے ایران نے آہستہ آہستہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں کم کر دی ہیں، جبکہ اسے بحال کرنے کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

بیسنٹ اور ہیگسیتھ پر قالیباف کی تنقید، جو ٹرمپ نے مقرر کیے تھے، ایرانی قیادت کے اس نقطہ نظر کو ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اسپیکر کا 'مسخرے ٹیم' کا استعمال براہ راست توہین ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایرانی حکام نے امریکی حکام کے خلاف سخت زبان استعمال کی ہے۔

یہ پوسٹ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے تناظر میں بھی آئی ہے، جو 2023 میں ایران اور پاکستان کے درمیان سیکیورٹی اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے دستخط کی گئی تھی۔ اگرچہ یہ یادداشت براہ راست امریکہ-ایران تعلقات سے متعلق نہیں ہے، لیکن یہ ایران کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے کہ وہ خطے میں امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرے۔

مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، قالیباف کے تبصرے انگریزی میں ان کے ایکس اکاؤنٹ پر کیے گئے، ممکنہ طور پر بین الاقوامی سامعین تک پہنچنے کے لیے۔ یہ پیغام واضح اشارہ ہے کہ ایران امریکی دھمکیوں یا پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگا۔ یہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ تہران توقع کرتا ہے کہ اگر امریکہ بامعنی مذاکرات چاہتا ہے تو اسے اپنا انداز بدلنا ہوگا۔

امریکہ نے ابھی تک قالیباف کے تبصروں کا باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان جاری تعطل بین الاقوامی تعلقات میں ایک بڑا نقطہ اختلاف ہے، دونوں فریق اپنے موقف پر قائم ہیں۔ ایران نے مسلسل کہا ہے کہ وہ دباؤ میں مذاکرات نہیں کرے گا، جبکہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کے خلاف سخت موقف پر اصرار کرتا ہے۔

آخر میں، قالیباف کا بیان ایران کے اس موقف کو تقویت دیتا ہے کہ وہ دباؤ میں مراعات نہیں دے گا۔ امریکی حکام کے خلاف توہین آمیز زبان کا استعمال دونوں حکومتوں کے درمیان گہری دشمنی کو اجاگر کرتا ہے۔ جیسے جیسے صورتحال تیار ہوتی ہے، یہ دیکھنا باقی ہے کہ سفارتی چینلز دوبارہ کھل سکتے ہیں یا کشیدگی مزید بڑھے گی۔ مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، اسپیکر کے تبصرے ایکس پر ایک پوسٹ میں کیے گئے، اور مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں

ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ امریکی دباؤ سے مراعات حاصل نہیں ہوں گی — Shia.pk