
امریکی محکمہ انصاف ایران کی تیل آمدنی کے 61 ملین ڈالر ضبط کرنے کی کوشش کر رہا ہے
امریکی محکمہ انصاف نے ایران کی پابندیوں کے تابع تیل فروخت سے 61 ملین ڈالر ضبط کرنے کے لیے مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ چین میں ایک کرپٹو کرنسی نیٹ ورک نے تیل کی آمدنی کے 1.5 بلین ڈالر منی لانڈرنگ کی۔
شائع شدہ: 15 ستمبر، 2026
محفوظ کریںامریکی محکمہ انصاف ایران کی تیل آمدنی کے 61 ملین ڈالر ضبط کرنے کی کوشش کر رہا ہے
امریکی محکمہ انصاف نے [تاریخ] کو اعلان کیا کہ اس نے ایران کی تیل فروخت سے 61 ملین ڈالر ضبط کرنے کے لیے مقدمہ دائر کیا ہے، جو امریکی پابندیوں کے تابع ہے۔ محکمے نے الزام لگایا کہ ایران نے چین میں کام کرنے والے کرپٹو کرنسی نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے اپنی تیل کی آمدنی کے 1.5 بلین ڈالر منی لانڈرنگ کی۔ یہ دعویٰ خاص طور پر ان فروخت سے حاصل ہونے والے 61 ملین ڈالر کے منافع کو نشانہ بناتا ہے۔ مقدمے یا نیٹ ورک کے بارے میں مزید تفصیلات فوری طور پر فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ اعلان ایران کے تیل کے شعبے پر پابندیوں کے نفاذ کے لیے امریکی مہم میں ایک اور قدم ہے۔ واشنگٹن طویل عرصے سے تہران پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ پابندیوں سے بچنے اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے ڈیجیٹل کرنسیوں سمیت پیچیدہ مالیاتی ذرائع استعمال کرتا ہے۔ محکمہ انصاف کی یہ کارروائی ایک دیوانی ضبطی کا دعویٰ ہے، جو پابندیوں سے منسلک اثاثوں کو ضبط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایران نے مستقل طور پر ایسے الزامات کو مسترد کیا ہے اور امریکی پابندیوں کو غیر قانونی اور معاندانہ قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے اقدامات عام ایرانیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ زیر بحث تیل کی آمدنی ایران کی معیشت کو برقرار رکھنے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے، کیونکہ سخت امریکی پابندیوں نے اس کی بین الاقوامی سطح پر خام تیل فروخت کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔
یہ کیس پابندیوں کا شکار اداروں کی جانب سے روایتی بینکاری نظام کو نظرانداز کرنے کے لیے کرپٹو کرنسی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو اجاگر کرتا ہے۔ امریکی حکام نے ایسے نیٹ ورکس پر توجہ مرکوز کی ہے، خاص طور پر چین جیسے دائرہ اختیار میں کام کرنے والے، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ غیر قانونی مالی بہاؤ کو آسان بناتے ہیں۔ محکمہ انصاف نے مبینہ نیٹ ورک میں ملوث مخصوص افراد یا کمپنیوں کے نام نہیں لیے۔
یہ پیش رفت واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہے، جہاں دونوں فریق پابندیوں، علاقائی سلامتی اور جوہری معاملات پر تنازعات میں ملوث ہیں۔ امریکہ نے حالیہ برسوں میں بار بار ایرانی تیل کے کارگو ضبط کیے اور اثاثے منجمد کیے ہیں، جس پر ایران نے جوابی اقدامات کیے ہیں۔ اس مقدمے کا نتیجہ تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتا ہے اور عالمی تیل کی منڈیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
مہر نیوز کے مطابق، محکمہ انصاف کا دعویٰ ایران کی تیل آمدنی کے ذرائع کو متاثر کرنے کی وسیع کوشش کا حصہ ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کیس یا اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں فوری طور پر کوئی اضافی معلومات دستیاب نہیں تھیں۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں