شیعہ پی کے
کشنر کا کہنا ہے کہ دوحہ حملے کے بعد اسرائیل عالمی طور پر الگ تھلگ ہوا، غزہ جنگ بندی میں مدد ملی
اسرائیل و ایران

کشنر کا کہنا ہے کہ دوحہ حملے کے بعد اسرائیل عالمی طور پر الگ تھلگ ہوا، غزہ جنگ بندی میں مدد ملی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر نے کہا کہ ستمبر 2025 میں دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے والا اسرائیلی فضائی حملہ ناکام رہا اور اس کی وجہ سے اسرائیل عالمی سطح پر الگ تھلگ ہو گیا، جسے واشنگٹن نے غزہ جنگ بندی کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔

شائع شدہ: 14 ستمبر، 2026

محفوظ کریں

کشنر کا کہنا ہے کہ دوحہ حملے کے بعد اسرائیل عالمی طور پر الگ تھلگ ہوا، غزہ جنگ بندی میں مدد ملی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر نے کہا کہ واشنگٹن نے ستمبر 2025 میں دوحہ، قطر میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ استعمال کیا تاکہ ملک کو غزہ جنگ بندی کی طرف دھکیلا جا سکے۔ کشنر نے کہا، "اسرائیل نے دوحہ میں حملہ کیا، جو ایک خوفناک فعل تھا۔" انہوں نے کہا، "یہ فوجی آپریشن کے طور پر ناکام رہا، اور اس کی وجہ سے اسرائیل عالمی سطح پر الگ تھلگ ہو گیا۔" کشنر کے مطابق، امریکہ نے اس سفارتی دباؤ سے فائدہ اٹھایا تاکہ ایک ایسے معاہدے کو آگے بڑھایا جا سکے جو کئی مہینوں سے تیاری کے مراحل میں تھا۔

کشنر کے ریمارکس دوحہ حملے کے سفارتی اثرات کو اجاگر کرتے ہیں، جس نے قطر میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا تھا۔ کشنر نے اس آپریشن کو ایک فوجی ناکامی قرار دیا جس نے اسرائیل کی بین الاقوامی تنہائی میں اضافہ کیا۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ امریکہ نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کی طرف پیش رفت میں سہولت فراہم کی، جو کئی مہینوں سے جاری مذاکرات پر مبنی تھی۔

کچھ دن پہلے، کشنر نے یہ بھی کہا تھا کہ مقبوضہ علاقوں میں آنے والے انتخابات نیتن یاہو کی کابینہ کو غزہ سے متعلق بعض معاملات پر غیر معقول اقدامات کرنے پر مجبور کریں گے۔ یہ ایسے وقت میں ہے جب امریکہ اور صیہونی حکومت خطے کے ممالک کے خلاف اپنی معاندانہ اور جنگجو پالیسیوں کے حوالے سے مکمل طور پر متحد اور ہم آہنگ ہیں۔

مہر نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کشنر کے تبصرے خطے میں جاری کشیدگی اور غزہ کی انسانی صورتحال سے نمٹنے کی سفارتی کوششوں کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ ستمبر 2025 میں دوحہ میں ہونے والا فضائی حملہ ایک اہم کشیدگی کا باعث بنا، جس نے بین الاقوامی تنقید کو جنم دیا اور عالمی سطح پر اسرائیل کی حیثیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ کشنر کا اسرائیل کی تنہائی کا اعتراف اسرائیلی حکومت کو درپیش وسیع تر سفارتی چیلنجوں کو ظاہر کرتا ہے جب وہ جنگ بندی کے مذاکرات اور آنے والے انتخابات کے مراحل سے گزر رہی ہے۔

مہر نیوز کے مطابق، دوحہ حملے کے بعد عارضی دباؤ کے باوجود امریکہ اور اسرائیل خطے کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر قریبی طور پر متحد ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کشنر کے بیانات امریکہ-اسرائیل تعلقات کی پیچیدہ حرکیات اور غزہ میں جنگ بندی کے حصول کی جاری کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں