
ایران کے وزیر خارجہ کا امریکہ سے اسلام آباد مفاہمت کی پاسداری کا مطالبہ
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کو اسلام آباد مفاہمت کی پاسداری کرنی چاہیے، جس کی اس نے خلاف ورزی کی ہے، تاکہ جنگ ختم ہو سکے۔ انہوں نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے پہلے دن کے بعد یہ بات کہی۔
شائع شدہ: 1 ستمبر، 2026
محفوظ کریںایران کے وزیر خارجہ کا امریکہ سے اسلام آباد مفاہمت کی پاسداری کا مطالبہ
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کو اسلام آباد مفاہمت (ایم او یو) کی پاسداری کرنی چاہیے، جس کی اس نے خلاف ورزی کی ہے، تاکہ موجودہ صورتحال حل ہو سکے۔ انہوں نے یہ بات کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے پہلے دن کے بعد کہی۔
عراقچی نے اپنی ملاقاتوں اور گفتگو کو مکمل طور پر کام کرنے والے سیشن قرار دیا، جو معمول کی رسمی کارروائیوں سے ہٹ کر تھے، اور گفتگو کا مرکز اقتصادی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے دستیاب مواقع پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے جارحانہ حملوں اور ان کے نتائج کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔
عراقچی نے کہا، "ہم نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی قوم اپنے حقوق کے لیے کھڑی رہے گی، اور یہ بات تمام ملاقاتوں میں اجاگر کی گئی۔" انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمت، جس پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے تھے اور امریکہ نے اس کی خلاف ورزی کی، ہر ملاقات میں زیر بحث آئی۔
انہوں نے کہا، "امریکہ کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف لوٹنا ہوگا اور مفاہمت کی دفعات کی پاسداری کرنی ہوگی۔ اس کے بعد ہی ہم اس صورتحال سے نکل سکتے ہیں، کیونکہ تمام ممالک اس بات پر فکر مند ہیں کہ جنگ جلد از جلد ختم ہو۔"
عراقچی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، "ہم نے یہ واضح کیا کہ حل مکمل طور پر واضح اور مخصوص ہے: امریکہ کو اپنی ذمہ داریوں اور اس معاہدے کی طرف لوٹنا ہوگا جس پر اس کے صدر نے دستخط کیے تھے۔ اس صورت میں سب کچھ صحیح راستے پر لایا جا سکتا ہے۔"
اسلام آباد مفاہمت سے مراد ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ معاہدہ ہے، تاہم رپورٹ میں اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ ریمارکس دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، عراقچی کے یہ بیانات ایس سی او اجلاس کے دوران دیے گئے، جہاں انہوں نے دیگر شریک حکام کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن ممالک نے شرکت کی یا اجلاس کی صحیح تاریخ کیا تھی، لیکن یہ ایرانی وزیر خارجہ کی باقاعدہ سفارتی مصروفیات کا حصہ ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں