
ایرانی سفیر نے تہران کی جانب سے لاس اینجلس کی تباہی کے ٹرمپ کے بیان کو انتخابی پروپیگنڈہ قرار دے دیا
ایک ایرانی سفیر نے ٹاس کو بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تہران کی جانب سے امریکی شہروں کی تباہی کے دعوے بے بنیاد اور انتخابی پروپیگنڈے کے مترادف ہیں، جبکہ ایران کے فوجی نظریے کو دفاعی اور میزائل طاقت کو ایک حقیقت قرار دیا۔
شائع شدہ: 14 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںایرانی سفیر نے تہران کی جانب سے لاس اینجلس کی تباہی کے ٹرمپ کے بیان کو انتخابی پروپیگنڈہ قرار دے دیا
ایک ایرانی سفیر نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حالیہ بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تہران امریکی شہروں کو تباہ کر سکتا ہے، اور اسے بے بنیاد اور غیر حقیقی انتخابی پروپیگنڈہ قرار دیا۔ روس کی ٹاس نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں سفیر نے کہا کہ اس طرح کے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور صرف انتخابی مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں۔
سفیر نے زور دیا کہ ایران کا فوجی نظریہ واضح، ذمہ دارانہ اور دفاع و روک تھام پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم کبھی بھی کسی جنگ کے آغاز کرنے والے نہیں رہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی صلاحیتیں اور میزائل طاقت ایک ناقابل تردید، ناقابل انکار اور خوفناک حقیقت ہے۔ انہوں نے اس روک تھام کی صلاحیت کو ملک کے تحفظ کا جائز ذریعہ قرار دیا۔
سفیر کے مطابق، ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایران کی حقیقی روک تھام کو گھریلو سیاسی مسائل حل کرنے اور کیلیفورنیا میں اپنے ڈیموکریٹک حریفوں سے نمٹنے کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ایرانی اہلکار کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ٹرمپ کے بیانات کو امریکی اندرونی سیاسی چیلنجوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش سمجھتے ہیں۔
مہر نیوز کی اصل رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ٹرمپ نے تہران کی جانب سے لاس اینجلس کی تباہی سے متعلق یہ ریمارکس کب یا کہاں دیے، اور نہ ہی سفیر کے ٹاس کو دیے گئے انٹرویو کے سیاق و سباق کی مزید تفصیلات فراہم کی گئیں۔ ایرانی اہلکار کے اس ردعمل سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کی عکاسی ہوتی ہے، خاص طور پر انتخابی موسم کی بیان بازی کے دوران۔
ایران ہمیشہ سے یہ موقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی فوجی پوزیشن دفاعی ہے اور اس کا میزائل پروگرام بیرونی خطرات کے خلاف روک تھام کا ذریعہ ہے۔ سفیر کے تبصرے تہران کے اس دیرینہ مؤقف کے مطابق ہیں کہ وہ تنازعہ نہیں چاہتا لیکن ضرورت پڑنے پر اپنا دفاع کرے گا۔ اس تبادلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ-ایران تعلقات امریکی سیاست میں ایک متنازعہ مسئلہ بنے ہوئے ہیں، جہاں امیدوار اکثر خارجہ پالیسی پر ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہتے ہیں۔
مہر نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سفیر کے یہ ریمارکس ٹرمپ کے الزامات کے جواب میں دیے گئے، تاہم انٹرویو کے صحیح وقت اور مقام کا انکشاف نہیں کیا گیا۔ تہران میں قائم یہ نیوز ایجنسی اکثر ایرانی سرکاری بیانات اور علاقائی پیش رفت کی کوریج کرتی ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں