
ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں گرائے گئے ڈرون اور جہاز 'ڈوب گئے'
ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے آبنائے ہرمز میں ایرانی افواج کے نشانہ بننے والے ڈرون اور جہازوں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ 'ڈوب گئے'، اور یہ امریکی سینٹ کام کمانڈر کے بیان کا جواب قرار دیا۔
شائع شدہ: 2 نومبر، 2026
محفوظ کریںایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں گرائے گئے ڈرون اور جہاز 'ڈوب گئے'
ایران کی اسلامی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اتوار کی رات دیر گئے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی مسلح افواج کے نشانہ بننے کے بعد ڈرون اور جہاز "ڈوب گئے"۔ اس پوسٹ میں ان ڈرون اور جہازوں کی تصویر بھی شامل تھی جنہیں ان کے مطابق اس آبی گزرگاہ میں نشانہ بنایا گیا۔
جنرل محبی نے اس پوسٹ کو امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر کے بیان کا جواب قرار دیا اور ان کے بیان کو "وہم" کہا۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان نے تصویر کے ساتھ لکھا، "وہ ڈوب گئے!"
یہ بیان ان کے ہفتے کے روز دیے گئے ان تبصروں کے بعد سامنے آیا جن میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ دوبارہ جنگ کی کوئی جغرافیائی حد نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو نشانہ بنانے اور مکمل ڈیٹرنس حاصل کرنے کے لیے ایک وسیع آپریشنل دائرہ کار متعین کیا گیا ہے۔
جنرل محبی نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ ڈیٹرنس کا مطلب یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی ملک ایران کے خلاف سیاسی موقف اختیار نہ کر سکے، اور کوئی بھی ریاست ایرانی سرزمین اور علاقے پر قبضے کی خواہش نہ پالے۔ یہ تبصرے پاسداران انقلاب کے ترجمان کے بیانات سے متعلق رپورٹ میں شامل تھے۔
آبنائے ہرمز ایک اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ہے جس سے عالمی تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے اور یہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا بار بار مرکز رہی ہے۔ رپورٹ میں ڈرون اور جہازوں سے متعلق واقعات کے وقت یا مقام کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں، اور نہ ہی اس بات کی وضاحت کی گئی کہ پاسداران انقلاب کے ترجمان کس مخصوص بیان کا جواب دے رہے تھے۔
مہر نیوز کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان نے یہ تصویر اور مختصر بیان اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شائع کیا، اور رپورٹ میں ان کے ان سابقہ تبصروں کا بھی حوالہ دیا گیا جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بھی نئی جنگ کسی متعین جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہے گی۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں