شیعہ پی کے
ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پائیدار سلامتی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی
امریکا و ایران

ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پائیدار سلامتی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے انڈونیشیا کے گلوبل ٹاؤن ہال 2026 میں ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار سلامتی بات چیت اور علاقائی تعاون سے حاصل ہوتی ہے، غیر ملکی فوجی موجودگی سے نہیں۔

شائع شدہ: 19 ستمبر، 2026

محفوظ کریں

ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پائیدار سلامتی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پائیدار سلامتی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی اور یہ صرف بات چیت، اعتماد سازی، تعاون اور علاقائی ممالک کے درمیان باہمی احترام کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات انڈونیشیا کے گلوبل ٹاؤن ہال 2026 ایونٹ میں ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہی، جیسا کہ مہر نیوز نے رپورٹ کیا۔

اپنے خطاب میں عراقچی نے کہا کہ پائیدار سلامتی علاقے کے ممالک کے درمیان بات چیت، اعتماد سازی، تعاون اور باہمی احترام سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ غیر ملکی طاقتوں کی فوجی موجودگی اور ان کی مرضی مسلط کرنے سے۔ انہوں نے سلامتی کے انتظامات میں علاقائی ملکیت کی بات کی اور اس نقطہ نظر کو بیرونی فوجی مداخلت کے مقابلے میں پیش کیا۔

وزیر خارجہ کا یہ خطاب انڈونیشیا کی میزبانی میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں دور سے دیا گیا۔ مہر نیوز کے مطابق عراقچی کی تقریر کا مکمل متن بعد میں شائع کیا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور بیرونی طاقتوں کے درمیان علاقائی کشیدگی جاری ہے، تاہم رپورٹ میں تقریر کی مزید تفصیلات یا وزیر خارجہ کے اضافی بیانات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ گلوبل ٹاؤن ہال انڈونیشیا کا ایک بین الاقوامی فورم ہے جہاں عالمی اور علاقائی امور پر گفتگو کے لیے مختلف شخصیات جمع ہوتی ہیں۔

مہر نیوز کے مطابق عراقچی کے خطاب کا مرکز یہ اصول تھا کہ خطے کی سلامتی اس کے اپنے ممالک کو سفارتی ذرائع سے تشکیل دینی چاہیے، اور غیر ملکی فوجی موجودگی اور بیرونی دباؤ پائیدار استحکام کے قابل عمل راستے نہیں ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ان کی تقریر کا مکمل متن بعد میں جاری کیا جائے گا۔

ماخذ: Mehr Newsاصل خبر دیکھیں

ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پائیدار سلامتی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی — Shia.pk