شیعہ پی کے
ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے
اسرائیل و ایران

ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے

ایک سینئر آئی آر جی سی مشیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کی مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے اور ایران کے ہتھیار مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں، جبکہ بیلسٹک میزائل کی پیداوار ان کے استعمال سے زیادہ ہے۔

شائع شدہ: 7 اکتوبر، 2026

محفوظ کریں

ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے

اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ایک سینئر مشیر نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ جنرل نقدی کے نام سے پہچانے جانے والے اس اہلکار نے یہ بات مہر نیوز ایجنسی کے ساتھ شائع ہونے والے تبصروں میں کہی۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کے ہتھیاروں کی محدود رینج تکنیکی پابندیوں کے بجائے پالیسی کا معاملہ ہے، اور چونکہ یہ ہتھیار مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں، اس لیے میدان جنگ کی ضروریات کے مطابق ان کی رینج اور طاقت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل جنرل نقدی نے کہا تھا کہ ایران کی آئی آر جی سی کو دشمن کی سرزمین پر جنگ لے جانے کے قابل ہونا چاہیے، اور یہ کہ آئی آر جی سی کو ملک کی سرحدوں سے باہر جارحانہ کارروائیوں کی صلاحیت پیدا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے تمام ہتھیار، گولہ بارود اور سازوسامان اب مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں، بیلسٹک میزائل ان کے استعمال سے زیادہ تیزی سے تیار ہو رہے ہیں، اور ایران برسوں تک جنگ جاری رکھ سکتا ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ذریعے کے مطابق امریکی جارحیت اور امریکی اسرائیلی جارحیت سے متعلق تناؤ جاری ہے۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے، علاقائی سلامتی کے خدشات کا مرکز رہی ہے۔ ایران نے بارہا اس آبنائے پر اپنے کنٹرول اور اپنے مفادات کے دفاع کی صلاحیت کا دعویٰ کیا ہے۔

جنرل نقدی کے تبصرے فوجی پیداوار میں ایران کی خود انحصاری پر زور اور طویل تنازعے کو برقرار رکھنے کی تیاری کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ کہ بیلسٹک میزائل کی پیداوار ان کے استعمال سے زیادہ ہے، ایک نمایاں ذخیرے اور جاری مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آئی آر جی سی کو ایران کی سرحدوں سے باہر جارحانہ کارروائیوں کا مینڈیٹ روک تھام اور طاقت کے مظاہرے کے لیے ایک اسٹریٹجک پوزیشن کی نشاندہی کرتا ہے۔

مہر نیوز کے مطابق، اہلکار کے تبصروں سے ایران کا یہ موقف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی فوجی صلاحیتیں خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں اور کسی بھی اضافے کا مضبوط جواب دیا جائے گا۔ رپورٹ میں مخصوص آپریشنل منصوبوں یا ٹائم لائنز کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔ صورتحال بدلتی رہتی ہے، اور بین الاقوامی مبصرین خطے میں پیش رفت کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں

ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے — Shia.pk