
امریکی میڈیا کا دعویٰ: آبنائے ہرمز میں ایرانی میزائل حملے میں آٹھ امریکی میرینز زخمی
این بی سی نیوز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ تقریباً دو ہفتے قبل آبنائے ہرمز میں ایرانی میزائل سے امریکی جہاز کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں آٹھ امریکی میرینز زخمی ہوئے۔ ایرانی فوجی حکام نے پہلے خبردار کیا تھا کہ بغیر اجازت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
شائع شدہ: 28 ستمبر، 2026
محفوظ کریںامریکی میڈیا کا دعویٰ: آبنائے ہرمز میں ایرانی میزائل حملے میں آٹھ امریکی میرینز زخمی
این بی سی نیوز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ تقریباً دو ہفتے قبل آبنائے ہرمز میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں آٹھ امریکی میرینز زخمی ہوئے۔ امریکی نشریاتی ادارے کی اس رپورٹ میں واقعے کی صحیح تاریخ، استعمال شدہ میزائل کی قسم یا زخمیوں کی حالت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
این بی سی نیوز کے حوالے سے بتایا گیا کہ حملے کا نشانہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا ایک امریکی جہاز تھا۔ آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے جس سے عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے اور یہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا مرکز رہی ہے۔
واقعے سے قبل ایرانی فوجی حکام نے عوامی طور پر خبردار کیا تھا کہ بغیر اجازت آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کے خلاف ایران کی مسلح افواج کارروائی کریں گی۔ یہ انتباہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج فارس و آبنائے ہرمز میں سمندری سلامتی کے حوالے سے ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان جاری بیان بازی کے دوران جاری کیا گیا تھا۔
این بی سی نیوز کی رپورٹ، جس میں امریکی حکام کا حوالہ دیا گیا ہے، میں اس مخصوص الزام پر ایرانی حکام کے ردعمل کا ذکر نہیں ہے۔ واقعے کی تفصیلات کی دیگر ذرائع سے فوری طور پر آزاد تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔
آبنائے ہرمز میں گزشتہ برسوں کے دوران فوجی اور تجارتی جہازوں سے متعلق متعدد واقعات پیش آئے ہیں، جہاں ایران اور امریکہ دونوں کی نمایاں فوجی موجودگی ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا معاملہ حساس ہے اور وہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ بین الاقوامی توانائی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
مہر نیوز ایجنسی (ایم این اے) نے یہ رپورٹ این بی سی نیوز کے بیان کی بنیاد پر شائع کی۔ مہر نیوز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایرانی فوجی حکام نے پہلے واضح کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت گزرنے پر ایران کی مسلح افواج کارروائی کریں گی۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں