
ایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم عزیزی نے امریکی وزیر خزانہ کے دعووں کو بے بنیاد جھوٹ قرار دیا
سینئر ایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم عزیزی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے دعووں کو بے بنیاد جھوٹ قرار دیا اور نتائج کی وارننگ دی۔ یہ تبادلہ بیسنٹ کے تیل کی قیمتوں سے متعلق ریمارکس اور پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف کے طنزیہ جواب کے بعد سامنے آیا۔
شائع شدہ: 20 ستمبر، 2026
محفوظ کریںایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم عزیزی نے امریکی وزیر خزانہ کے دعووں کو بے بنیاد جھوٹ قرار دیا
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سینئر رکن ابراہیم عزیزی نے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے دعووں کو بے بنیاد جھوٹ قرار دیا ہے۔ اتوار کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں عزیزی نے لکھا، "ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ آپ کی 'نام نہاد' انٹیلیجنس بے بنیاد جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔" انہوں نے مزید کہا، "سبق سیکھیں اور ایک اور غلط فہمی سے بچیں ورنہ ہماری مسلح افواج آپ کو ایسا سبق سکھائیں گی جو آپ کبھی نہیں بھولیں گے۔"
یہ تبادلہ بیسنٹ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے حال ہی میں امید ظاہر کی تھی کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد عالمی تیل کی قیمتیں تقریباً 40 ڈالر فی بیرل تک گر جائیں گی۔ 6 ستمبر کو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ان ریمارکس پر طنزیہ جواب دیا تھا۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں قالیباف نے امریکہ کو درپیش معاشی چیلنجوں کی نشاندہی کی، جن میں امریکی ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، جاپان اور ناروے کی جانب سے امریکی ٹریژری سیکیورٹیز کی بڑے پیمانے پر فروخت، اور افراط زر اور شرح سود کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش شامل ہیں۔ انہوں نے بیسنٹ سے کہا کہ "اڑان بھرنے سے پہلے اچھی طرح گرم ہو جائیں۔"
عزیزی کے تبصرے ایرانی حکام اور امریکی وزیر خزانہ کے درمیان عوامی تبادلوں کے سلسلے کا تازہ ترین حصہ ہیں۔ یہ بیانات ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تناؤ کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ایرانی قانون ساز اکثر معاشی اور سلامتی کے معاملات پر امریکی حکام کے ریمارکس کا جواب دیتے ہیں۔ بیسنٹ کے مخصوص دعوے جو عزیزی کے جواب کا سبب بنے، رپورٹ میں تفصیل سے نہیں بتائے گئے، لیکن یہ ایرانی حکام کی جانب سے امریکی دعووں کو بے بنیاد قرار دینے کے معمول کے مطابق ہیں۔
مہر نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یہ تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان جاری بیانیہ تصادم کو اجاگر کرتا ہے، جہاں ایرانی حکام امریکی بیانات کا جواب دینے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔ بیسنٹ کے دعووں کی نوعیت یا ان کے سیاق و سباق کے بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں