
ایران کے مرکزی بینک کے گورنر کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیاں دباؤ کا ذریعہ ہیں، تقدیر نہیں
ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے کہا کہ امریکی پابندیاں دباؤ کا ذریعہ ہیں جو ایران کی تقدیر کا تعین نہیں کر سکتیں، اور معاشی دباؤ کو غلط حساب قرار دیا جو واشنگٹن کے لیے لاگت بڑھاتا ہے۔
شائع شدہ: 11 ستمبر، 2026
محفوظ کریںایران کے مرکزی بینک کے گورنر کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیاں دباؤ کا ذریعہ ہیں، تقدیر نہیں
ایران کے مرکزی بینک (سی بی آئی) کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے بدھ کے روز کہا کہ امریکی پابندیاں دباؤ کے طور پر کام کرتی ہیں اور ایران کی تقدیر کا تعین نہیں کر سکتیں۔ مہر نیوز ایجنسی (ایم این اے) کے مطابق، ہمتی نے بیان دیا کہ کچھ آمدنی اور تجارتی پابندیوں کے ساتھ ساتھ، امریکہ نے اب تک جو کچھ کیا ہے وہ توقعات کو تیز کرنے اور مارکیٹ کے حالات پر عارضی اثر ڈالنے کی کوشش ہے۔
ہمتی نے کہا، "معاشی دباؤ ایک پالیسی نہیں بلکہ ایک غلط حساب ہے، اور یہ امریکی حساب کی لاگت کو بڑھاتا ہے۔" انہوں نے یہ تبصرہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے جواب میں کیا، جنہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ریپبلکن کانگریسی انتخابات جیتیں گے اور اگر پارٹی مڈٹرم انتخابات جیتتی ہے تو ہر امریکی کو 5,000 ڈالر ادا کیے جائیں گے۔ ہمتی نے اس وعدے کو اسی غلط حساب کی لاگت کا حصہ قرار دیا۔
سی بی آئی گورنر کے تبصرے ایران اور امریکہ کے درمیان پابندیوں اور علاقائی مسائل پر جاری تناؤ کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ واشنگٹن نے ایران پر معاشی پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس کے بارے میں تہران نے بارہا کہا ہے کہ اس کا مقصد ملک پر دباؤ ڈالنا ہے۔ ہمتی کے ریمارکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکام پابندیوں کو ایک عارضی حربہ سمجھتے ہیں نہ کہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ کن عنصر۔
ہمتی نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سی بی آئی گورنر کے بیانات امریکی مڈٹرم انتخابات اور سابق صدر کے انتخابی وعدوں کے تناظر میں تھے۔ مضمون میں ہمتی کے ریمارکس کی صحیح تاریخ یا مقام کی وضاحت نہیں کی گئی۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، ہمتی کے تبصرے ایران کے اس موقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ بیرونی معاشی دباؤ اس کی تقدیر کا تعین نہیں کرے گا۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ امریکہ مارکیٹ کے حالات اور توقعات کو متاثر کرنے کے لیے پابندیوں کو بطور آلہ استعمال کر رہا ہے، لیکن ہمتی نے اس نقطہ نظر کو غلط حساب قرار دیا جو بالآخر امریکہ کے لیے لاگت بڑھاتا ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں