
انصاراللہ حملے کے بعد ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں توسیع
سعودی حکام نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بندش اتوار کو 21:00 GMT تک بڑھا دی ہے، یہ اطلاع نوٹس ٹو ایئر مشنز کے مطابق ہے۔ یہ توسیع انصاراللہ سے منسوب حملے کے بعد ہوئی ہے، جس پر سعودی حکام کی جانب سے ابھی کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔
شائع شدہ: 11 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںانصاراللہ حملے کے بعد ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں توسیع
سعودی عرب نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بندش اتوار کو 21:00 GMT تک بڑھا دی ہے، یہ اطلاع سعودی سول ایوی ایشن حکام کی جانب سے جاری کردہ نوٹس ٹو ایئر مشنز (NOTAM) کے مطابق ہے۔ نوٹس ٹو ایئر مشنز ایک سرکاری انتباہ ہے جو فلائٹ عملے کو وقت کے لحاظ سے حساس معلومات فراہم کرتا ہے جو پہلے سے معلوم نہیں ہوتیں۔ یہ توسیع انصاراللہ سے منسوب حملے کے بعد ہوئی ہے، جو یمنی گروپ ہے جسے حوثی بھی کہا جاتا ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے بندش میں توسیع کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ نوٹس، جو سعودی سول ایوی ایشن حکام نے جاری کیا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایئرپورٹ کم از کم اتوار کو 21:00 GMT تک بند رہے گا۔ نوٹس میں توسیع کی وجہ نہیں بتائی گئی، لیکن یہ انصاراللہ سے منسوب حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ گروپ یمن میں طویل تنازعے میں ملوث رہا ہے اور اس سے قبل سعودی سرزمین پر حملے کیے ہیں۔ ریاض کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ یہ خطے کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے۔
اس حملے کی تفصیلات نوٹس میں نہیں دی گئیں، اور سعودی حکام کی جانب سے واقعے کی نوعیت یا کسی نقصان کی حد کے بارے میں کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔ بندش میں توسیع سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال ابھی مکمل طور پر حل نہیں ہوئی۔ ریاض سے آنے اور جانے والی پروازیں متاثر ہونے کا امکان ہے، اور مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایئرلائنز سے تازہ معلومات حاصل کریں۔
انصاراللہ، جسے حوثی تحریک بھی کہا جاتا ہے، 2015 سے یمن میں سعودی زیرقیادت اتحاد کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اس گروپ نے ماضی میں سعودی انفراسٹرکچر، بشمول ہوائی اڈوں اور تیل کی سہولیات، پر کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یمن میں تنازعے کو بڑے پیمانے پر ایک پراکسی جنگ قرار دیا جاتا ہے، جس میں علاقائی طاقتیں مختلف فریقوں کی حمایت کر رہی ہیں۔ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بندش ایک غیر معمولی واقعہ ہے، کیونکہ یہ ہوائی اڈہ مشرق وسطیٰ میں بین الاقوامی سفر کا ایک اہم مرکز ہے۔
مہر نیوز کے مطابق، بندش کو اتوار کو 21:00 GMT تک بڑھا دیا گیا، جو سعودی سول ایوی ایشن حکام کی جانب سے جاری کردہ نوٹس پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سعودی حکام کی جانب سے توسیع کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔ صورتحال ابھی ترقی پذیر ہے، اور مزید معلومات سامنے آنے پر تازہ اپ ڈیٹس متوقع ہیں۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں