
ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ جوہری نظریے پر نظرثانی عوامی مطالبہ بن گئی ہے
ایک ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ملک کے جوہری نظریے پر نظرثانی عوامی مطالبہ بن گئی ہے، مہر نیوز کے مطابق۔ رپورٹ کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا تھا اور مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
شائع شدہ: 30 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ جوہری نظریے پر نظرثانی عوامی مطالبہ بن گئی ہے
ایک ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ملک کے جوہری نظریے پر نظرثانی عوامی مطالبہ بن گئی ہے، مہر نیوز کی رپورٹ کے مطابق۔ یہ رپورٹ، جو ایران پر جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ادارتی کوریج کے تحت شائع ہوئی، اشاعت کے وقت اپ ڈیٹ کے مرحلے میں تھی اور اس میں عہدیدار کا نام، تقریر کی جگہ یا نظرثانی شدہ نظریے کی ممکنہ تفصیلات شامل نہیں تھیں۔
یہ بیان ایران کے اندر اپنی جوہری پوزیشن سے متعلق طویل عرصے سے جاری بحث سے جڑا ہے۔ ایرانی عہدیداروں نے بارہا کہا ہے کہ ملک کا جوہری پروگرام پرامن ہے، جبکہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کے خلاف مذہبی فتویٰ جاری کیا ہے۔ نظریے میں ممکنہ تبدیلی کی بحث ایرانی عوامی مباحثے میں وقفے وقفے سے سامنے آتی رہی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے ادوار میں۔
مہر نیوز کی اس خبر میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ریمارکس کب دیے گئے، کس عہدیدار نے دیے، یا آیا یہ کسی سرکاری پالیسی موقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ نظریے میں کون سی مخصوص تبدیلیوں پر بات ہو رہی ہے یا کوئی باقاعدہ جائزہ جاری ہے۔
چونکہ رپورٹ ابھی اپ ڈیٹ کے مرحلے میں تھی، اس لیے بیان کے حالات سے متعلق کوئی اضافی پس منظر، منسوب اقتباسات یا تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔ اس خبر کے ساتھ ناشر کے کلیدی الفاظ "ایران پر جنگ"، "جوہری نظریہ" اور "ایران جوہری پروگرام" درج تھے، جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ادارے کی سلامتی اور جوہری امور کی کوریج کا حصہ ہے۔
مہر نیوز کے مطابق، رپورٹ کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا تھا اور مزید تفصیلات متوقع تھیں۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں