
ایران کے صدر پزشکیان کا کہنا ہے کہ علاقائی سفارت کاری صرف ملاقاتوں تک محدود نہ رہے
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جمعہ کی رات جاری ایک پیغام میں کہا کہ علاقائی سفارت کاری صرف ملاقاتوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے بحران کے انتظام، مکالمے اور عملی تعاون کا ذریعہ بننا چاہیے۔
شائع شدہ: 10 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںایران کے صدر پزشکیان کا کہنا ہے کہ علاقائی سفارت کاری صرف ملاقاتوں تک محدود نہ رہے
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جمعہ کی رات جاری ہونے والے ایک پیغام میں کہا ہے کہ علاقائی سفارت کاری کو محض ملاقاتیں منعقد کرنے تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے، بلکہ اسے بحران کے انتظام، مکالمے کو برقرار رکھنے، کشیدگی میں اضافے کو روکنے اور عملی تعاون کو آگے بڑھانے کا حقیقی ذریعہ بننا چاہیے۔
بیان کے مطابق صدر پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کی ریاستوں کے درمیان سفارت کاری کو رسمی اجتماعات سے آگے بڑھ کر ٹھوس نتائج سامنے لانے چاہئیں۔ انہوں نے دہرایا کہ علاقائی سفارت کاری کو ملاقاتوں سے آگے بڑھ کر بحرانوں کے انتظام، مکالمے کے تسلسل، کشیدگی میں اضافے کی روک تھام اور عملی تعاون کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہیے۔
اس پیغام میں علاقائی مسائل، علاقائی سلامتی، علاقائی تعاون اور علاقائی پیش رفت کا ذکر کیا گیا اور سفارت کاری کو پڑوسی ریاستوں کے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کیا گیا۔ صدر کے یہ ریمارکس کسی مخصوص تقریب میں پیش کرنے کے بجائے ایک تحریری پیغام کی صورت میں جاری کیے گئے، اور بیان میں کسی خاص ملاقات، ملک یا تنازعے کا نام نہیں لیا گیا۔
صدر پزشکیان کے ریمارکس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مکالمے اور اعلانیہ کے بجائے عملی مقصد کے طور پر تعاون پر زور دیا گیا ہے۔ اس بیان میں کسی نئی پہل، معاہدے یا طے شدہ اجلاس کا اعلان نہیں کیا گیا، اور نہ ہی ان ریمارکس کو کسی مخصوص مذاکرات سے منسوب کیا گیا۔
مہر نیوز کی رپورٹ میں یہ پیغام اس عنوان کے تحت شائع کیا گیا کہ علاقائی سفارت کاری صرف ملاقاتوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، اور اس میں صدر کی جانب سے بحران کے انتظام، مسلسل مکالمے، کشیدگی میں کمی اور عملی تعاون کو علاقائی سفارت کاری کے بنیادی فرائض کے طور پر اجاگر کیا گیا۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں