
پوتن نے کیف پر حملوں میں 72 گھنٹے کی روک تھام کا حکم دیا، امریکی مندوبین کے دورے سے قبل
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے آدھی رات سے کیف پر حملوں میں تین روز کی روک تھام کا حکم دیا ہے۔ یہ وقفہ امریکی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے یوکرین دورے سے منسلک ہے۔
شائع شدہ: 5 ستمبر، 2026
محفوظ کریںپوتن نے کیف پر حملوں میں 72 گھنٹے کی روک تھام کا حکم دیا، امریکی مندوبین کے دورے سے قبل
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملوں میں 72 گھنٹے کی روک تھام کا حکم دیا ہے۔ یہ روک تھام آدھی رات سے شروع ہوگی اور امریکی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے یوکرین دورے سے منسلک ہے، جو اتوار کو کیف پہنچنے والے ہیں۔ پیسکوف نے روس کی ٹاس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ یہ فیصلہ مندوبین کے دورے کی تیاریوں کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور یوکرین دونوں فضائی حملوں میں شدت لا رہے ہیں، اور مکمل حملے کے آغاز کو چار سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ یوکرین مندوبین کے دورے کے دوران اپنے فضائی حملے روک دے گا اور ماسکو سے بھی ایسا ہی کرنے کی اپیل کی تھی۔ امریکی مندوبین کا یہ دورہ تنازع کے خاتمے کے لیے تعطل کا شکار مذاکرات کو بحال کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
مہر نیوز کی رپورٹ کے مطابق، حملوں میں روک تھام جاری لڑائی کے دوران ایک اہم پیش رفت ہے۔ وٹکوف اور کشنر کا دورہ، جو امریکی نمائندوں کے طور پر کام کر رہے ہیں، واشنگٹن کی جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے ایجنڈے کی تفصیلات مکمل طور پر سامنے نہیں آئی ہیں، لیکن روک تھام کا وقت مذاکرات کے لیے سازگار ماحول بنانے کی مربوط کوشش کا اشارہ دیتا ہے۔
یہ تنازع فروری 2022 میں شروع ہوا تھا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ امن مذاکرات کی سابقہ کوششیں ناکام رہی ہیں، لیکن یہ تازہ ترین سفارتی اقدام ممکنہ تبدیلی کا اشارہ دے سکتا ہے۔ کریملن کی جانب سے روک تھام کا اعلان مندوبین کی آمد سے قبل خیر سگالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جیسے جیسے صورتحال ترقی کر رہی ہے، دونوں فریقوں نے پیش رفت کے امکانات پر احتیاط سے امید ظاہر کی ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوتی رہی ہیں۔ عالمی برادری مندوبین کے دورے کے نتائج پر نظر رکھے ہوئے ہے، جو وسیع تر امن عمل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
مہر نیوز کے مطابق، ٹاس کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ روک تھام خاص طور پر کیف پر حملوں تک محدود ہے اور ضروری نہیں کہ دوسرے علاقوں پر لاگو ہو۔ یوکرین کی حکومت نے ابھی تک پوتن کے حکم پر سرکاری طور پر ردعمل نہیں دیا ہے، لیکن زیلنسکی کا سابقہ بیان باہمی روک تھام کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ روک تھام دیرپا جنگ بندی کا باعث بن سکتی ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں