
ریاض میں دھماکوں کی اطلاعات، ہوائی اڈے کی کارروائی معطل
عرب میڈیا نے بدھ کے اوائل میں ریاض میں شدید دھماکوں کی اطلاع دی ہے، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یمن کی مسلح افواج کے میزائل اور ڈرون حملوں کا نتیجہ تھے۔ سعودی اور یمنی حکام نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
شائع شدہ: 23 ستمبر، 2026
محفوظ کریںریاض میں دھماکوں کی اطلاعات، ہوائی اڈے کی کارروائی معطل
عرب میڈیا ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بدھ کے اوائل میں شدید دھماکے ہوئے۔ شائع شدہ اطلاعات کے مطابق، حملوں کے بعد ریاض بین الاقوامی ہوائی اڈے کی کارروائی معطل کر دی گئی۔
کہا گیا ہے کہ یہ دھماکے یمن کی مسلح افواج کی جانب سے سعودی دارالحکومت پر میزائل اور ڈرون حملوں کا نتیجہ تھے۔ اطلاعات میں دھماکوں کی تعداد، مخصوص اہداف یا جانی نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
سعودی اور یمنی سرکاری میڈیا نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ کسی بھی فریق کی جانب سے مبینہ حملوں کی سرکاری تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔
مبینہ واقعہ علاقائی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے۔ یمن کی مسلح افواج نے اس سے قبل سعودی سرزمین پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جبکہ سعودی حکام عام طور پر ایسی اطلاعات پر فوری طور پر تبصرہ نہیں کرتے۔
مہر نیوز کے مطابق، دھماکوں اور ہوائی اڈے کی کارروائی معطل ہونے کی اطلاعات عرب میڈیا کے ذرائع پر مبنی تھیں، اور اشاعت کے وقت کوئی آزاد تصدیق دستیاب نہیں تھی۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں