
او آئی سی نے خلیج فارس میں ایرانی ٹینکر پر امریکی حملے کی مذمت کی
ایران کے او آئی سی مشن نے ایرانی آئل ٹینکر پر امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے سینٹ کام کے بیان کو شہری ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرنا قرار دیا۔
شائع شدہ: 6 ستمبر، 2026
محفوظ کریںاو آئی سی نے خلیج فارس میں ایرانی ٹینکر پر امریکی حملے کی مذمت کی
ایران کے مشن برائے تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) نے خلیج فارس میں ایرانی آئل ٹینکر پر حالیہ امریکی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ ردعمل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے جاری کردہ بیان کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ ایرانی مشن نے سینٹ کام کی طرف سے حملے کو "درستی اور پیشہ ورانہ مہارت" قرار دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی وضاحت تجارتی جہاز پر بزدلانہ حملے کا جواز پیش نہیں کر سکتی۔
مشن نے مزید سوال اٹھایا کہ میناب کے ایک پرائمری اسکول، لامرد کے اسپورٹس کلب اور کوہستاک میں شادی کی تقریب سمیت شہری مقامات پر ہونے والے حملوں کو محض "غلطی" یا "نشانہ چوکنے" کے طور پر کیسے مسترد کیا جا سکتا ہے۔ مشن نے سینٹ کام کے بیان کو ایران کے خلاف نام نہاد "جارحانہ جنگ" کے دوران امریکی افواج کے "وحشیانہ جرائم" کی مکمل ذمہ داری کا واضح اعتراف قرار دیا۔
ایرانی مشن نے امریکہ کو یاد دلایا کہ وہ صرف اپنی مرضی کے مطابق "درستی" اور جب شہریوں کو نقصان پہنچے تو "غلطی" جیسی اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتا۔ یہ بیان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر خلیج فارس کے علاقے میں جہاں تجارتی جہازوں سے متعلق واقعات نے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
او آئی سی، جو مسلم ممالک کی بین الاقوامی تنظیم ہے، سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسی کارروائیوں کے خلاف موقف اختیار کرے جنہیں ایران بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ ٹینکر پر حملے اور اس کے بعد کے بیانات نے خطے میں سیکیورٹی کے نازک ماحول کو اجاگر کیا ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، ایرانی مشن کے یہ ریمارکس امریکی حملے اور سینٹ کام کے بیان کے ردعمل میں دیے گئے، جو اس واقعے پر تہران کے موقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مشن کا یہ ردعمل بین الاقوامی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہے کہ امریکی فوج طاقت کا غیر متناسب اور غیر قانونی استعمال کر رہی ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں