
ایرانی سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ جوہری نظریے میں تبدیلی پر کوئی سنجیدہ فیصلہ نہیں ہوا
میجر جنرل محسن رضائی نے ایرانی سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ایران کے جوہری نظریے میں تبدیلی کے بارے میں کوئی سنجیدہ فیصلہ نہیں کیا گیا، جبکہ انہوں نے ایک ماہ سے زائد سفارتی کوششوں اور امریکہ کی مذاکرات پر اصرار کا ذکر کیا۔
شائع شدہ: 31 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںایرانی سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ جوہری نظریے میں تبدیلی پر کوئی سنجیدہ فیصلہ نہیں ہوا
ایران کے سینئر سکیورٹی اہلکار میجر جنرل محسن رضائی نے ہفتے کے روز ایرانی قومی ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے جوہری نظریے میں تبدیلی کے حوالے سے کوئی سنجیدہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یہ بات مہر نیوز کی رپورٹ میں بتائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق رضائی نے کہا کہ سفارتی کوششیں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہیں اور واشنگٹن مذاکرات کے انعقاد پر اصرار کرتا رہا ہے۔ انہوں نے ان کوششوں کی تفصیلات یا کسی بھی مذاکرات کی صورتحال کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
یہ بیان ایران کے جوہری نظریے میں ممکنہ تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ رضائی کے ریمارکس کے مطابق، ان کے بیان کے مطابق، یہ معاملہ کسی سنجیدہ فیصلے کے مرحلے تک نہیں پہنچا۔
رپورٹ میں رضائی کو ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے اور ان کا تعلق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) سے بتایا گیا ہے۔ یہ انٹرویو ایرانی قومی ٹی وی پر نشر کیا گیا۔
مہر نیوز کے مطابق رضائی نے ہفتے کے روز ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران یہ بات کہی، جس میں انہوں نے سفارتی عمل اور مذاکرات کے حوالے سے امریکی مؤقف پر بات کی۔ رپورٹ میں دیگر ایرانی حکام یا امریکی حکام کے اضافی بیانات شامل نہیں ہیں۔
مہر نیوز کے مطابق رضائی نے کہا کہ سفارتی کوششیں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہیں اور واشنگٹن مذاکرات کے انعقاد پر اصرار کرتا رہا ہے، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوہری نظریے میں تبدیلی کے بارے میں کوئی سنجیدہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں