
ایران کے رہبر نے 2577 قیدیوں کی معافی یا سزا میں تخفیف کی منظوری دی
ایران کے سپریم لیڈر نے عدلیہ کے سربراہ کی سفارش پر 2577 قیدیوں کی معافی یا سزا میں تخفیف کی منظوری دی ہے۔
شائع شدہ: 31 اگست، 2026
محفوظ کریںایران کے رہبر نے 2577 قیدیوں کی معافی یا سزا میں تخفیف کی منظوری دی
مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے رہبر انقلاب نے 2577 قیدیوں کی معافی یا سزا میں تخفیف کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب عدلیہ کے سربراہ غلامحسین محسنی اژهای نے رہبر کو ان قیدیوں کی فہرست فراہم کی جو عوامی اور انقلابی عدالتوں میں سزا پا چکے تھے۔
مقامی ایرانی میڈیا کے مطابق، معافی میں شامل قیدیوں کی صحیح تعداد 2577 ہے۔ یہ اقدام ایران میں ایک عام روایت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں سپریم لیڈر مختلف مواقع پر، بشمول مذہبی تعطیلات اور برسیوں کے موقع پر، قیدیوں کو معافی دیتے ہیں۔
رپورٹ میں ان قیدیوں کے جرائم کی نوعیت یا ان کی معافی میں شمولیت کے معیار کی وضاحت نہیں کی گئی۔ تاہم، عام طور پر ایسی معافی ان قیدیوں کو دی جاتی ہے جنہوں نے پشیمانی کا اظہار کیا ہو یا اپنی سزا کا بڑا حصہ پورا کر لیا ہو۔
یہ پیشرفت حال ہی میں حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی ولادت کی برسی کے موقع پر سامنے آئی ہے، جو اسلامی کیلنڈر کا ایک اہم موقع ہے جب رحم اور درگزر کے اسلامی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ رہبر کا یہ فیصلہ اسلامی تعلیمات اور اہل بیت (ع) کی تعلیمات پر مبنی ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، یہ فہرست عدلیہ کے سربراہ نے پیش کی تھی اور رہبر کی منظوری متعلقہ حکام کو بھیج دی گئی ہے۔ رہائی یا سزا میں تخفیف کا عمل ایرانی قانون کے مطابق انجام دیا جائے گا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ رہبر نے اس طرح کے اقدامات کی منظوری دی ہو۔ ماضی میں بھی مختلف مواقع پر، بشمول اسلامی انقلاب کی برسی اور دیگر قومی و مذہبی تقریبات کے موقع پر، ایسی معافی دی گئی ہے۔ اس اقدام کو قیدیوں کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کے حامیوں کی طرف سے خوش آئند قرار دیا جاتا ہے، تاہم کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی معافی کے معیار زیادہ شفاف ہونے چاہئیں۔
مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ایرانی آئین کے تحت رہبر کے اختیار کے مطابق ہے، جو انہیں قیدیوں کی معافی یا سزا میں تخفیف کی اجازت دیتا ہے، سوائے ان مقدمات کے جہاں قومی سلامتی یا عوامی نظم سے متعلق جرائم شامل ہوں۔
مجموعی طور پر، 2577 قیدیوں کی معافی ایک اہم رحم کا اقدام ہے جو اسلامی قانون کے فریم ورک میں عدالتی نظام کی رحم کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس کا نفاذ کیسے ہوگا اور اس کا افراد اور ان کے اہل خانہ پر کیا اثر پڑے گا۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں