
غزہ میں ایک ہی خاندان کے چار افراد اسرائیلی حملے میں ہلاک
الجزیرہ کے مطابق غزہ میں آدھی رات کے بعد ایک گھر پر حملے میں ایک شخص، اس کی بیوی اور دو بیٹیاں ہلاک ہو گئیں۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے غزہ میں 1,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
شائع شدہ: 10 ستمبر، 2026
محفوظ کریںغزہ میں ایک ہی خاندان کے چار افراد اسرائیلی حملے میں ہلاک
الجزیرہ کے مطابق غزہ کی پٹی میں آدھی رات کے فوراً بعد ایک گھر پر حملے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص، اس کی بیوی اور ان کی دو بیٹیاں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لاشوں کو الشفا ہسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ حملہ غزہ میں رپورٹ ہونے والے ان واقعات میں سے ایک ہے جو اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود پیش آئے۔ الجزیرہ کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے علاقے میں تقریباً روزانہ حملے جاری ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس وقت سے اب تک غزہ میں 1,300 سے زائد افراد ہلاک اور 4,500 زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ ہلاکتیں مسجد اقصیٰ طوفان آپریشن اور حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعے کے وسیع تر تناظر میں سامنے آئی ہیں۔ ماخذ مواد میں خاندان کے افراد کی شناخت، غزہ کے اندر گھر کے مخصوص مقام، یا حملے کے وقت اور لاشوں کو الشفا ہسپتال منتقل کیے جانے کے علاوہ دیگر حالات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ابتدائی رپورٹ میں حکام، انسانی ہمدردی کی تنظیموں یا خاندان کے افراد کے کسی اضافی بیان کو شامل نہیں کیا گیا۔ اکتوبر کے بعد سے ہلاکتوں کے جو اعداد و شمار دیے گئے ہیں وہ الجزیرہ سے منسوب ہیں اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔
مہر نیوز کے مطابق، جس نے الجزیرہ کا حوالہ دیا، چاروں خاندانی افراد آدھی رات کے فوراً بعد اپنے گھر پر حملے میں ہلاک ہوئے اور ان کی لاشیں الشفا ہسپتال منتقل کی گئیں۔ مہر نیوز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ بھر میں تقریباً روزانہ حملے جاری ہیں، جن میں اس وقت سے اب تک 1,300 سے زائد افراد ہلاک اور 4,500 زخمی ہو چکے ہیں۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں