
پاکستان اور ایران نے امریکہ-ایران مفاہمت کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور آرمی چیف عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی جس میں امریکہ-ایران تنازع اور اسلام آباد مفاہمت کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شائع شدہ: 25 اگست، 2026
محفوظ کریںپاکستان اور ایران نے امریکہ-ایران مفاہمت کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی جس میں امریکہ-ایران تنازع اور اسلام آباد مفاہمت کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایکس پر اپنے پیغام میں نقوی نے اس ملاقات کو "بہت مثبت اور نتیجہ خیز" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی گفتگو "ایران-امریکہ تنازع، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آگے بڑھنے کے طریقوں کے ساتھ ساتھ دونوں طرف سے اسلام آباد مفاہمت کی بحالی کے لیے درکار اقدامات پر مرکوز تھی، جس سے تنازع کے جامع حل کی راہ ہموار ہوگی۔"
نقوی نے کہا کہ "ایرانی صدر نے اپنی حکومت کے نقطہ نظر اور خدشات کا کھل کر اظہار کیا، اور ہمارے درمیان متعلقہ امور پر بہت تعمیری تبادلہ خیال ہوا۔" انہوں نے مزید کہا کہ "اہم پیش رفت ہوئی ہے" اور "یہ ملاقات انتہائی مثبت انداز میں اختتام پذیر ہوئی۔" انہوں نے امید ظاہر کی کہ "یہ رفتار خطے میں مزید پیش رفت اور دیرپا امن کی راہ ہموار کرے گی۔"
اسلام آباد مفاہمت سے مراد پاکستان اور ایران کے درمیان ماضی میں طے پانے والی ایک مفاہمت ہے جس کا مقصد دوطرفہ مسائل کا حل اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا تھا۔ بیان میں اس مفاہمت کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھی ہوئی ہے اور مشرق وسطیٰ میں تنازعات جاری ہیں۔ پاکستان نے اکثر علاقائی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، اور یہ اعلیٰ سطحی رابطہ اس کی سفارتی کوششوں کا عکاس ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، یہ ملاقات امریکہ-ایران تنازع کو کم کرنے اور پرامن حل تلاش کرنے کی جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے اور جامع حل کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں