
آئی آر جی سی سربراہ وحیدی کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں مداخلت کا کسی غیر ملکی طاقت کو حق نہیں
اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر انچیف میجر جنرل احمد وحیدی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ کسی غیر علاقائی طاقت کو آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں دھمکی دینے، تسلط قائم کرنے یا مداخلت کا حق نہیں ہے۔
شائع شدہ: 13 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںآئی آر جی سی سربراہ وحیدی کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں مداخلت کا کسی غیر ملکی طاقت کو حق نہیں
اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر انچیف میجر جنرل احمد وحیدی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ کسی غیر علاقائی طاقت کو آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں دھمکی دینے، تسلط قائم کرنے یا مداخلت کا حق نہیں ہے۔ یہ بیان مہر نیوز ایجنسی (ایم این اے) نے جاری کیا۔
وحیدی کے اس بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی جاری ہے اور بین الاقوامی توجہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر مرکوز ہے، جس سے عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ آئی آر جی سی سربراہ نے اپنی پوسٹ میں کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے تبصرے خطے میں غیر ملکی فوجی موجودگی سے متعلق دکھائی دیتے ہیں۔
آبنائے ہرمز بین الاقوامی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، اور ایران نے اس سے قبل بھی اس علاقے میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف انتباہ جاری کیا ہے۔ وحیدی کا بیان ایران کے اس موقف کا اعادہ ہے کہ علاقائی سلامتی کا انتظام علاقائی ریاستوں کو کرنا چاہیے، بغیر کسی بیرونی مداخلت کے۔
مہر نیوز کے مطابق، آئی آر جی سی کمانڈر نے زور دیا کہ کسی بیرونی طاقت کو ان پانیوں میں دھمکی دینے یا مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔ رپورٹ میں مزید تفصیلات یا دیگر فریقوں کے ردعمل کا ذکر نہیں کیا گیا۔
یہ بیان ایرانی حکام کی جانب سے خلیج فارس میں غیر ملکی فوجی موجودگی کی مخالفت کے سلسلے کا حصہ ہے۔ آئی آر جی سی، ایران کی مسلح افواج کی ایک بڑی شاخ، اکثر علاقائی سلامتی کے معاملات میں شامل رہی ہے اور اس سے قبل بھی بیرونی مداخلت کے خلاف انتباہ کر چکی ہے۔
مہر نیوز کی رپورٹ کے مطابق، وحیدی نے یہ تبصرے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کیے، تاہم مخصوص پلیٹ فارم کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کا وقت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج میں سمندری سلامتی سے متعلق جاری مباحثوں کے ساتھ ہے۔
ایران نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں سلامتی کو یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس نے خطے سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔ وحیدی کے تازہ تبصرے اس موقف کو مزید تقویت دیتے ہیں، جو ایران کی غیر علاقائی مداخلت کے خلاف مسلسل مخالفت کا اشارہ ہے۔
ماخذ کے مطابق، اس بیان کے سیاق و سباق یا کسی مخصوص واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے وحیدی کے تبصروں پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں