
عراق نے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ سیکیورٹی کونسل کی تجویز دی
عراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ سیکیورٹی کونسل کی تجویز پیش کی تاکہ تہران اور ریاض کے درمیان 'اعتماد کے بحران' کو حل کیا جا سکے۔
شائع شدہ: 24 اگست، 2026
محفوظ کریںعراق نے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ سیکیورٹی کونسل کی تجویز دی
عراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے ایران، عراق اور سعودی عرب پر مشتمل مشترکہ سیکیورٹی کونسل کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس اقدام کا مقصد تہران اور ریاض کے درمیان 'اعتماد کے بحران' کو حل کرنا ہے۔ یہ اعلان سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو کے دوران کیا گیا، لیکن ایران یا سعودی عرب کی جانب سے اس تجویز پر کوئی فوری سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
الاعرجی نے ملکی سلامتی کے معاملات پر بھی بات کی اور کہا کہ عراق سے امریکی قیادت والے اتحاد کی انخلاء، جو 30 ستمبر کو طے شدہ ہے، تمام ہتھیاروں کو آہستہ آہستہ ریاستی کنٹرول میں لانے کا نقطہ آغاز ہے۔ یہ اقدام عراق کی خودمختاری اور اندرونی استحکام کو مضبوط بنانے کی سمت ایک قدم سمجھا جا رہا ہے۔
مشترکہ سیکیورٹی کونسل کی تجویز علاقائی کشیدگی اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کو فروغ دینے کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ عراق نے اس سے قبل دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی ہے، اور خود کو خطے میں ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ مجوزہ کونسل اعتماد سازی کے اقدامات اور جاری بات چیت کے لیے ایک پلیٹ فارم کا کام کر سکتی ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، الجزیرہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام عراق کی علاقائی سلامتی اور تعاون کو بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ ایران اور سعودی عرب کی جانب سے فوری ردعمل نہ آنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تجویز ابھی زیر غور ہے، اور اس کی عملیت کا تعین ابھی باقی ہے۔
یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں علاقائی سفارت کاری میں عراق کے فعال کردار کو اجاگر کرتی ہے، کیونکہ یہ پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس تجویز کا نتیجہ علاقائی استحکام اور مشرق وسطیٰ میں جاری سلامتی کی حرکیات پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں