
ایران کے فوجی سربراہ کا کہنا ہے کہ جنگ کی مساوات میں تبدیلی دشمن کی توقعات سے بڑھ کر تھی
ایران کے مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل حیدری نے کہا کہ ایران کی اسٹریٹجک صلاحیتوں، بشمول آبنائے ہرمز، نے اسے جنگ کی مساوات تبدیل کرنے اور میدان جنگ کو علاقائی سطح تک پھیلانے کی اجازت دی، جو دشمن کی توقعات سے بڑھ کر تھی۔
شائع شدہ: 7 ستمبر، 2026
محفوظ کریںایران کے فوجی سربراہ کا کہنا ہے کہ جنگ کی مساوات میں تبدیلی دشمن کی توقعات سے بڑھ کر تھی
ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ ایران کی اسٹریٹجک صلاحیتوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز پر اس کے کنٹرول نے ملک کو عالمی اقتصادی مساوات کو نمایاں طور پر متاثر کرنے کے قابل بنایا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دشمن کو یہ توقع نہیں تھی کہ ایران جنگ کی حرکیات کو تبدیل کرنے اور میدان جنگ کو علاقائی سطح تک پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے جنرل باقری نے نوٹ کیا کہ یہ اہم آبی گزرگاہ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات کی تشکیل کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اپنے جغرافیائی اور فوجی فوائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ایران عالمی اقتصادی استحکام پر خاطر خواہ اثر ڈالنے میں کامیاب رہا ہے، یہ اقدام دشمنوں کے لیے حیران کن تھا۔
یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی جاری ہے، اور واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں بشمول اسرائیل نے تہران پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ایرانی فوجی قیادت نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کی بندش شامل ہو، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
جنرل باقری کے ریمارکس ایران کی اپنی خودمختاری اور مفادات کے دفاع کے لیے تیاری پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے دہرایا کہ اسلامی جمہوریہ کی دفاعی حکمت عملی روک تھام پر مبنی ہے اور دشمن کی کوئی بھی غلط فہمی سنگین نتائج کا باعث بنے گی۔ میدان جنگ کو علاقائی سطح تک پھیلانے کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران ضرورت پڑنے پر اپنی سرحدوں سے باہر خطرات کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، جنرل کے یہ بیانات ایک تقریب یا ملاقات کے دوران دیے گئے، جن کی تفصیلات مکمل طور پر ظاہر نہیں کی گئیں۔ رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی کہ جنگ کی مساوات میں ایران کی تبدیلی حالیہ فوجی مواصلات میں ایک اہم موضوع رہی ہے، جو ملک کے اپنی دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
امریکی اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں، ایرانی مسلح افواج ہائی الرٹ پر ہیں۔ آبنائے ہرمز ایران کے اسٹریٹجک حساب کتاب میں ایک مرکزی عنصر بنی ہوئی ہے، کیونکہ وہاں کسی بھی خلل کے عالمی توانائی کی منڈیوں پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران نے مسلسل کہا ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے لیکن کسی بھی خطرے کے خلاف دفاع میں دریغ نہیں کرے گا۔
مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جنرل باقری کے تبصرے ایران کی فوجی تیاری اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر زور دینے والی وسیع تر بیانیہ کا حصہ ہیں۔ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں