
ایرانی رکن پارلیمان کا انتباہ کہ جوابی کارروائی خطے تک محدود نہیں ہوگی
ایک سینئر ایرانی رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ دشمن کے حملے کا جواب خلیج فارس کے علاقے تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ دشمن کے تمام اڈوں اور حملے کے ذرائع کو نشانہ بنایا جائے گا۔
شائع شدہ: 2 اگست، 2026
محفوظ کریںایرانی رکن پارلیمان کا انتباہ کہ جوابی کارروائی خطے تک محدود نہیں ہوگی
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن ابراہیم رضائی نے ایک سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ ممکنہ دشمن کے حملے کا جواب خلیج فارس کے علاقے تک محدود نہیں ہوگا۔ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں رضائی نے لکھا: "ممکنہ دشمن کے حملے کا جواب خلیج فارس کے علاقے تک محدود نہیں ہوگا۔ ہم دشمن کے تمام اڈوں اور حملے کے ذرائع کو جہاں سے بھی حملہ ہو، جواب دیں گے۔"
یہ بیان ایرانی اور امریکی افواج کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی جھڑپوں کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے خلیج فارس اور اس سے باہر امریکی اڈوں پر حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی افواج نے ایرانی سرزمین پر حملے جاری رکھے ہیں۔ صورتحال مزید شدت اختیار کر گئی ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا ہے، جو عالمی تیل کی نقل و حمل کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔
رضائی کے ریمارکس ایران کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں کہ اگر حملہ کیا گیا تو وہ وسیع پیمانے پر جواب دیں گے، اور یہ اشارہ دیتے ہیں کہ کوئی بھی امریکی اڈہ یا حملے کا ذریعہ محفوظ نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک امریکی فوجی مداخلت ختم نہیں ہوتی۔
یہ انتباہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، اور دونوں طرف سے فوجی کارروائیاں جاری ہیں جس سے وسیع تر تنازع کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ اس کے عالمی توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مہر نیوز ایجنسی (MNA) کے مطابق، رضائی کا یہ بیان ان کے سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا، اور ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے اور وہ اپنی کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک امریکی فوجی مداخلت ختم نہیں ہوتی۔ رپورٹ میں مخصوص فوجی کارروائیوں یا ٹائم لائن کے بارے میں اضافی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں