شیعہ پی کے
ایران کا سفارت کاری ناکام ہونے پر جارحانہ موقف اختیار کرنے کا اعلان
ایران

ایران کا سفارت کاری ناکام ہونے پر جارحانہ موقف اختیار کرنے کا اعلان

ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو ایران 'مکمل جارحانہ' پالیسی اپنائے گا، اور امریکہ کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کی چند ہفتوں کی مہلت ہے۔ آئی آر جی سی کے نائب سیاسی سربراہ نے اسٹریٹجک حیرت کی تنبیہ کی۔

شائع شدہ: 17 اگست، 2026

محفوظ کریں

ایران کا سفارت کاری ناکام ہونے پر جارحانہ موقف اختیار کرنے کا اعلان

ایران نے اپنی پالیسی دفاعی سے 'مکمل جارحانہ' میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جیسا کہ ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے اہلکار نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر مکمل عمل درآمد کی چند ہفتوں کی مہلت مقرر کی ہے۔ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو ایران کے تمام ادارے آبنائے ہرمز اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے تیار ہوں گے۔ اہلکار نے مزید کہا کہ ایران امریکہ کے بحری ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برداشت نہیں کرے گا۔

دریں اثنا، آئی آر جی سی کے نائب سیاسی سربراہ بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے ایرانی ٹی وی کو بتایا کہ 'دشمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہمارے خلاف اچانک کارروائیاں نہیں کر سکتا اور ہمیں غافل نہیں پکڑ سکتا۔ شاید اسے خود اسٹریٹجک حیرت کی توقع رکھنی چاہیے۔' ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اعلیٰ تیاری کی حالت میں ہے اور مخالفین کو خبردار کیا جا رہا ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی جاری ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کے حوالے سے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ ہے۔ امریکہ نے خطے میں بحری موجودگی برقرار رکھی ہے، جسے ایران ناکہ بندی کے طور پر دیکھتا ہے۔ اہلکار کے ذکر کردہ ایم او یو سے مراد ممکنہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان پچھلے معاہدے یا مفاہمت ہیں، تاہم تفصیلات واضح نہیں ہیں۔

مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، اہلکار کے بیانات ایران کی اسٹریٹجک پوزیشن میں اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مہر نیوز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکہ کے لیے ایم او یو پر عمل درآمد کی مہلت چند ہفتے ہے، اور ایران ضرورت پڑنے پر جارحانہ اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ رپورٹ میں آئی آر جی سی جنرل کی اسٹریٹجک حیرت کی تنبیہ پر بھی روشنی ڈالی گئی، جو غیر متوقع اقدامات کے امکان کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ پیش رفت بین الاقوامی برادری میں تشویش پیدا کرنے کا امکان رکھتی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی کشیدگی سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اور وسیع تر تنازع کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ صورتحال ابھی غیر یقینی ہے، دونوں طرف سے سخت موقف دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مہر نیوز کے مطابق، اہلکار کے بیانات روئٹرز کو دیے گئے، اور ایجنسی نے زور دیا کہ ایران کا جارحانہ پالیسی میں تبدیلی سفارت کاری کی ناکامی پر مشروط ہے۔

ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں

ایران کا سفارت کاری ناکام ہونے پر جارحانہ موقف اختیار کرنے کا اعلان — Shia.pk