
ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی میں شدت پر فوجی جواب کی دھمکی دی
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ بحری ناکہ بندی میں شدت لائے گا تو ایران فوجی جواب دے گا، اور خبردار کیا کہ خلیج فارس سے کوئی بھی تیل برآمد نہیں کر سکے گا۔
شائع شدہ: 1 ستمبر، 2026
محفوظ کریںایران نے امریکی بحری ناکہ بندی میں شدت پر فوجی جواب کی دھمکی دی
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے منگل کو کہا کہ اگر امریکہ بحری ناکہ بندی میں شدت لائے گا تو ایران فوجی جواب دے گا، اور خبردار کیا کہ خلیج فارس سے کوئی بھی تیل برآمد نہیں کر سکے گا۔
منگل کو جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں قالیباف نے کہا: "اگر وہ ناکہ بندی میں شدت لائیں گے تو ہم یقینی طور پر فوجی جواب دیں گے اور سب نقصان میں ہوں گے۔" انہوں نے مزید کہا: "اگر دشمن کا ارادہ ہے کہ ہم خلیج فارس سے تیل برآمد نہ کر سکیں تو کوئی بھی ایسا نہیں کر سکے گا۔"
قالیباف نے امریکی دباؤ کی نوعیت پر بھی تبصرہ کیا: "دشمن اس وقت اقتصادی جنگ کے نفسیاتی پہلو پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔" انہوں نے نوٹ کیا کہ "نئی اعلان کردہ پابندیوں کا ایک بڑا حصہ پہلے سے نافذ تھا،" جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے اقدامات اتنے مؤثر نہیں ہو سکتے جتنے دکھائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بحری ناکہ بندی کے قانونی مضمرات پر بھی زور دیا: "بین الاقوامی قانون میں بحری ناکہ بندی کو فوجی کارروائی سمجھا جاتا ہے۔" یہ تبصرہ ایران کے اس نقطہ نظر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا فوجی جواب دیا جا سکتا ہے۔
یہ ریمارکس ایران اور امریکہ کے درمیان تیل کی برآمدات اور علاقائی سلامتی پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ امریکہ نے ایران کی تیل کی صنعت پر پابندیاں عائد کی ہیں اور خطے میں اپنی بحری موجودگی بڑھائی ہے، جسے ایران ناکہ بندی کے طور پر دیکھتا ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، قالیباف کے یہ ریمارکس ایک ویڈیو پیغام میں کیے گئے، اور رپورٹ کوڈ MNA/6934547 کے تحت شائع ہوئی۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں