شیعہ پی کے
ایران نے بار بار سکیورٹی الزامات پر جرمن سفیر کو طلب کر لیا
ایران

ایران نے بار بار سکیورٹی الزامات پر جرمن سفیر کو طلب کر لیا

ایران کی وزارت خارجہ نے 19 اکتوبر 2026 کو جرمن سفیر کو ایران کے خلاف الزامات پر طلب کیا، جبکہ جرمنی نے علیحدہ طور پر یہودی برادری کے ایک رہنما کے خلاف مبینہ سازش پر ایران کے سفیر کو طلب کیا۔

شائع شدہ: 19 اکتوبر، 2026

محفوظ کریں

ایران نے بار بار سکیورٹی الزامات پر جرمن سفیر کو طلب کر لیا

ایران نے 19 اکتوبر 2026 کو جرمنی کے سفیر کو طلب کیا، جس کا مقصد جرمن حکام کی جانب سے ایران کے خلاف بار بار کیے جانے والے سکیورٹی سے متعلق الزامات پر احتجاج تھا۔ میزان نیوز کے مطابق، سفیر ڈٹ مین کو اسسٹنٹ فارن منسٹر اور ڈائریکٹر جنرل برائے مغربی یورپ علیرضا یوسفی نے طلب کیا، جنہوں نے بعض جرمن حکام کے ایران کے بارے میں نامناسب رویے پر اسلامی جمہوریہ کے شدید اعتراض کا اظہار کیا۔

یوسفی نے کہا کہ ایران کے خلاف سکیورٹی سے متعلق الزامات لگانا طویل عرصے سے اسرائیلی حکومت اور بعض مغربی ممالک کی حکمت عملی رہا ہے۔ انہوں نے جرمن عدلیہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بے بنیاد سیاسی دعووں کو عدالتی تحفظ فراہم کرنا ایسے الزامات کو اعتبار نہیں دے گا بلکہ اس کے برعکس جرمنی کے عدالتی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جرمن حکام کی ایران کو ملوث کرنے کی کوششیں امریکی اسرائیلی فوجی جارحیت میں جرمن حکومت کی حمایت اور شرکت کی ذمہ داری سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں۔ یوسفی نے زور دیا کہ ایسی حکمت عملیاں ایران کو اس جارحیت کے دوران مبینہ طور پر کیے گئے جنگی جرائم میں جرمنی کی بین الاقوامی ذمہ داری کے تعاقب سے باز نہیں رکھ سکیں گی۔ جرمن سفیر نے کہا کہ وہ ایران کے تحفظات اپنے ملک کے متعلقہ حکام تک پہنچائیں گے۔

علیحدہ طور پر، جرمنی کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز ایران کے سفیر کو ملک کی ایک یہودی برادری کے رہنما کے خلاف مبینہ حملے کی کوشش کے الزام میں طلب کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں جرمن وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ یہودی باشندوں کے خلاف حملوں کو برداشت نہیں کرے گی اور ایران کے اقدامات کی شدید مذمت کی۔ چند روز قبل جرمنی کی ایک عدالت نے دو افراد کو نمایاں اسرائیل نواز شخصیات پر مبینہ حملوں کی منصوبہ بندی اور ایران کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے یہودی افراد کی جاسوسی کے الزام میں قید کی سزا سنائی تھی۔

سفیروں کی باہمی طلبی برلن اور تہران کے تعلقات میں مزید بگاڑ کا اشارہ ہے۔ ایران نے بار بار ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ وہ جرمن سرزمین پر خفیہ کارروائیاں کرتا ہے، جبکہ جرمنی نے یہودی باشندوں کے ساتھ سلوک اور مبینہ ایرانی انٹیلی جنس سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں حکومتوں نے باہمی طلبی کے بعد کسی فوری فالو اپ اقدام کا اعلان نہیں کیا۔

میزان نیوز کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے اس طلبی کو ان الزامات کے خلاف باضابطہ احتجاج قرار دیا جنہیں وہ بے بنیاد اور سیاسی محرکات پر مبنی سمجھتی ہے، جبکہ جرمن وزارت خارجہ نے ایران کے سفیر کی طلبی کو ایک مخصوص مبینہ سازش کے جواب کے طور پر پیش کیا۔ میزان نیوز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جرمن سفیر نے ایران کے تحفظات اپنی حکومت تک پہنچانے کا عہد کیا۔

ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں

ایران نے بار بار سکیورٹی الزامات پر جرمن سفیر کو طلب کر لیا — Shia.pk