شیعہ پی کے
ایران کے وزیر خارجہ عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران سفارت کاری اور دفاع دونوں میں سنجیدہ ہے
ایران

ایران کے وزیر خارجہ عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران سفارت کاری اور دفاع دونوں میں سنجیدہ ہے

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے اور اپنے دفاع کے لیے بھی اتنا ہی پرعزم ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ دوبارہ فوجی راستہ اختیار کرنے پر زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

شائع شدہ: 5 اکتوبر، 2026

محفوظ کریں

ایران کے وزیر خارجہ عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران سفارت کاری اور دفاع دونوں میں سنجیدہ ہے

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز کہا کہ تہران سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے بارے میں سنجیدہ ہے اور اسی طرح اپنے دفاع کے معاملے میں بھی سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ مہر نیوز کے مطابق، انہوں نے خبردار کیا کہ دوبارہ فوجی راستہ اختیار کرنے پر ایران کی طرف سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

عراقچی کے یہ ریمارکس، جو 5 اکتوبر کو تہران سے رپورٹ ہوئے، ایران کے موقف کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ اس میں سفارتی مصروفیت کے لیے کھلا پن اور اپنے دفاع پر مضبوط موقف دونوں شامل ہیں۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس فوجی راستے کی طرف اشارہ کر رہے تھے، تاہم یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ایسے دور کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایرانی حکام نے دوبارہ تصادم کے امکان پر بار بار بات کی ہے۔

وزیر خارجہ کے ریمارکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا نقطہ نظر دو متوازی راستوں پر مبنی ہے: جاری سفارتی کوششیں اور کسی بھی فوجی کارروائی کا جواب دینے کی تیاری۔ یہ کہتے ہوئے کہ دوبارہ فوجی راستہ اختیار کرنے پر زیادہ سخت جواب ملے گا، عراقچی نے اشارہ دیا کہ کسی بھی کشیدگی کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ دیا جائے گا، البتہ انہوں نے اس جواب کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یہ بیان ایسی جاری علاقائی پیش رفت کے درمیان سامنے آیا ہے جس نے ایران کی خارجہ پالیسی اور سلامتی کی پوزیشن کو توجہ کا مرکز بنا رکھا ہے۔ ایرانی حکام مسلسل یہ موقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ملک سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے جبکہ اپنے دفاع کے حق کو محفوظ رکھتا ہے۔ عراقچی کے تازہ ریمارکس اس موقف کا اعادہ کرتے ہیں، اور سفارت کاری اور دفاع کو متضاد کے بجائے ایک دوسرے کے لیے معاون ترجیحات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

مخصوص سفارتی اقدامات یا ان حالات کے بارے میں کوئی اضافی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں جن کی بنیاد پر فوجی جواب دیا جا سکتا ہے۔ وزیر خارجہ کے ریمارکس مہر نیوز نے رپورٹ کیے، جس نے مزید بتایا کہ ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے بارے میں سنجیدہ ہے۔

ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں

ایران کے وزیر خارجہ عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران سفارت کاری اور دفاع دونوں میں سنجیدہ ہے — Shia.pk