
ایران نے پکڑے گئے امریکی آبدوز ڈرون کی پہلی فوٹیج جاری کر دی
ایران نے آبنائے ہرمز میں پکڑے گئے امریکی سمارٹ آبدوز ڈرون کی پہلی فوٹیج جاری کر دی ہے۔
شائع شدہ: 9 ستمبر، 2026
محفوظ کریںایران نے پکڑے گئے امریکی آبدوز ڈرون کی پہلی فوٹیج جاری کر دی
ایران نے آبنائے ہرمز میں پکڑے گئے امریکی سمارٹ آبدوز ڈرون کی پہلی فوٹیج جاری کر دی ہے۔ یہ فوٹیج اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے جاری کی ہے، جس میں زیر آب ڈرون دکھایا گیا ہے، جسے ایران کے مطابق ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہونے کے بعد قبضے میں لیا گیا۔
آبنائے ہرمز ایک اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ہے جس سے دنیا کی تقریباً پانچویں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس ڈرون کی گرفتاری سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے، جو جوہری پروگرام اور خطے میں ایران کے کردار سمیت متعدد مسائل پر اختلاف رکھتے ہیں۔
IRGC نے اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ڈرون کب پکڑا گیا یا اس کی صلاحیتیں کیا ہیں، لیکن اسے "سمارٹ" آبدوز ڈرون قرار دیا ہے۔ فوٹیج کی ریلیز ایران کی فوجی صلاحیتوں اور اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے تیاری کا مظاہرہ معلوم ہوتی ہے۔
امریکہ نے ابھی تک فوٹیج کی ریلیز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم، ماضی میں امریکی فوج خطے میں ڈرون کھونے کا اعتراف کر چکی ہے، لیکن شاذ و نادر ہی تفصیلات فراہم کرتی ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، یہ فوٹیج 9 ستمبر کو جاری کی گئی، اور یہ پہلا موقع ہے کہ ایران نے پکڑے گئے ڈرون کو دکھایا ہے۔ رپورٹ میں گرفتاری کی صحیح تاریخ نہیں بتائی گئی، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ حال ہی میں ہوئی ہے۔
یہ واقعہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے، جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں لفظی جنگ اور کبھی کبھار فوجی جھڑپوں میں مصروف رہے ہیں۔ ایران نے بار بار خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات کو خطرہ ہوا تو وہ آبنائے کو بند کر دے گا، جبکہ امریکہ نے خطے میں بحری موجودگی برقرار رکھی ہے تاکہ نیویگیشن کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔
فوٹیج کی ریلیز کو ایران کے لیے پروپیگنڈا فتح کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس نے اکثر اپنی فوجی کامیابیوں کو نمایاں کیا ہے، بشمول 2019 میں امریکی ڈرون کو مار گرانا۔ آبدوز ڈرون کی گرفتاری کو ایران خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کی نگرانی اور ان کا مقابلہ کرنے کی اپنی صلاحیت کو ظاہر کرنے کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہے۔
ابھی تک امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے فوٹیج کے حوالے سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ صورتحال کشیدہ ہے، اور یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ اس تازہ پیش رفت پر کیا ردعمل دے گا۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں